تحدیث نعمت — Page 386
۳۸۶ مسٹر براؤن کے ساتھ یہ قرار پایا کہ پہلے مسلے میں ہم بیٹے کرنے کی کوشش کریں کہ ہندوستان کے برطانیہ سے کیا کیا مطالبات ہیں اور ان کے متعلق مفاہمت کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔ہندوستان کا سب سے بڑا اور اہم مقامی تو یہ تھا کہ برطانیہ ہندوستان سے زیادہ سے زیادہ مقدار میں کپاس خرید کرے۔لیکن اس مطالبے کے متعدی سیکسی تصفیے پر پہنچنا اس بات کے ساتھ متعلق تھا کہ برطانوی سوتی کپڑے پر تشریع محصول کیا ہو۔پہلے مرحلے پر یہ طے پایا کہ پیچیدہ مسئلے کو ایک طرف رہنے دیا جائے اور اس پر بعد میں غور کیا جائے۔اول یہ کوشش کی جائے که باقی سب امور باہمی رضامندی سے طے ہو جائیں۔مسٹر براؤن کے ساتھ میری ملاقات ہفتے میں دونین بالہ ہوتی۔اپنے مشاورتی وفد کے ساتھ روزانہ مشورہ ہوتا۔ہر مرحلے پر حکومت ہند کو اطلاع دیجاتی کہ کیلے پورا ہے جب کسی ملک کے متعلق کوئی فارمولا تجویز کیا جاتا اور اس میں کوئی ترمیم منظر ہوتی تو میں مرے کوچند منٹوں میں سمجھا دیتا اور وہ اپنے کمرے میں جاکر پچیدہ سے پیچیدہ تجویز کو بنات صاف اور آسان الفاظ میں قلمبند کر کے چند منٹوں میں لے آتے۔مجھے حیرت ہوتی کہ کسی جادو منتر سے کام لیتے ہیں یا اللہ تعالی نے بہت صان ہم عطا فرمایا ہے اور ساتھ ہی سادہ الفاظ میں مشکل سے مشکل مطالب کو بیان کرنے کا ملکہ ودیعت کیا ہے۔میں نے ایک دن ان سے کی جو کام آپ کرتے ہیں وہ ہزار تین کرنے کے باوجود مجھ سے تو نہ ہوسکے مارنے ور کہا میں بی جب دیکھتا ہوں کہ ان ہی مسائل پرگفتگو کے دوران تم کسی تجویز یا ترمیم کے متعلق کی ندر بلائے قائم کر لیتے ہو تو مجھے بھی حیرت ہوتی ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ سے تو کسی صورت الیسا نہ ہو سکے۔میں نے کہا ی بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جو کام تمہارے سپرد ہوا ہے اس کے ایک حصے کے متعلق مجھے مناسب فہم عطافرما دیا ہے اور دوسرے حصے کے متعلق آپ کو اعلی ملکہ عطافرمایا ہے اور ہمیں اس کام میں شریک کر دیا ہے۔یورپ کے مختلف ممالکا سفر اور ان ممالک سا جولائی میں انگستان میں تعطل کا موسم شروع ہوگیا کے وزرائے و افسران محکمہ تجارت سے ملاقاتیں اور برطانوی وزارت تجارت کے افسران باری باری شخصیت پر جانے لگے۔لہذا تجارت کے معاہدے پر گفتگو اگست کے آخر تک ملتوی ہوگئی۔میں نے دائرے کے پرائیویٹ سیکریٹری سرگرٹ لیتھوٹ کو تار دیا کہ والٹرے سے دریافت کر کے مطلع فرما دیں کہمیں تنے عرصہ کیلئے واپس آجاؤں یا انگلستان میں ہی ٹھہروں؟ ان کا جواب آیا کہ چونکہ واپس آنے جانے میں اتنا وقت صرف ہو جائے گا کہ تم یہاں دو ہفتے سے زیادہ نہ ٹھہر سکو گے لہذا وائٹریٹ کا ارشاد ہے کہ اسمبلی کی قرار داد کے دوسرے حصے کی تعمیل میں تم یورپ کے دیگر ممالک میں جاؤ اور ان کے ساتھ ہندوستانی تجارت کوفروغ دینے کے متعلق تبادلہ خیانت کرد - چنانچہ میں اس سفر پر روانہ ہو گیا اور بیگ، برین ، کوین میگن ، سٹاک ہولم ، بیلسنگفورس ، دار ، پراگ، ترلین ، وی اینا، بوڈا لپیٹ، روم نے سوئٹزر لینڈ، پرس میں ان ملکوں کے وزرائے تجارت اور افسرانی