تحدیث نعمت — Page 377
دید یا گیا ہے۔پھر وہ ہراساں ہوتے ہیںکر معلوم نہیں ہماری گاڑی کب چھوٹے گی ایسا نہ ہو ہم بیٹھے رہ جائیں اور کی چھوٹ جائے۔بالو سے پوچھتے ہیں تو وہ جھڑک دیتا ہے۔ابھی تمہاری گاڑی کا وقت نہیں ہوا۔بندہ خدام اس بیچارے کو نرمی اور شفقت سے بتاؤ کہ گاڑی کے روانہ ہونے میں کتنا عرصہ باقی ہے۔انھی وقت نہیں ہوا سے اس نے یہ تو مجھ لیا کہ گاڑی فوراً چھوٹنے والی نہیں لیکن اس کے اس خدشے کا تدارک تونہ ہوا کہ ایمی از گفتار و باوں اور گاڑی چھوٹ جائے۔یہ تومیں نے ان مسافروں کی ایسی پریا نیوں کا ذکرکیا ہے جو انہیں لانا پیش آتی ہیں۔لیکن اگر کوئی لٹ کھٹایا بابو دق کرنے یا اسے بٹورنے پر آمادہ ہو تو ان پریشانیوں میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک ٹکٹ کلکٹڑھا ہو نے ی مرہم سے فخریہ کہا تھا ہم بھی انہ ہیں اور اردو پر ہمارا احترام لازم ہے۔اگر کوئی فرگستاخی پر آمده ہوتو ہم نورا اس کا مزاج درست کر دیتے ہیں۔میں دریافت کی آپ کیا کرتے ہیں کہ بالکل آسان بات ہے اس سے یا اور زمین پر گر کراس پر پاؤں رکھ دیا اور تم سے کہ جلد کو ٹکٹ والے کرو وہ کہتاہے میں نے بھی کٹے دیدیا ہے۔تم کہتے ہیں جھوٹ سکتے ہو ٹکٹ دو ورنہ ساتھ جرمانہ بھی دینا پڑے گا اور نہیں تو کانسٹیل کے حوالے کئے جاؤ اس کے پوش عبد ٹھکانے آجاتے ہیں۔ہمیں آپ صاحبان کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم خادم ہیں۔خدمت تمارا فرض ہے اور خدمت کا شوق ہمارا خاصہ ہونا چاہیئے۔اب میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے سے واقعات سناتا ہوں جس سے آپ اندازہ کر سکیں گے کہ اگر ایک پڑھے لکھے دوسرے یا اول درجے کے مسافر کے ساتھ ایسا غیر مردانہ سلوک ہو سکتا ہے تو ایک ان پڑھو میرے درجے کے مسافر کے ساتھ کیا بتاؤ ہوتا ہو گا۔میں نے چند واقعات اپنے ذاتی تجربے سے بیان کئے پھر میں نے چند واقعات ایسے بیان کئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ غیر مالک مثلا بہ لانہ میں مسافروں کے آرام کا استقدیر خیال رکھا جاتا ہے۔ترمیم میں نے دوتین باتوںکی طرف خاص توجہ دلائی اول ماروی کو رقم کی اطلاع ہم پہنچا کا انتظام ہونا چاہیے۔تاکہ اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کس قسم کی پریشانی نامی نہ وہ دوسرے مسافروں کی ہر مناسب مدد ہونی چاہئے تا کردیل پر سفر کر ان کے لئے ایک تکلیف دہ مجاہد نہ ہو کہ ایک خوشگوار تجربہ ہو۔میرے دل کے نام حملے کا یہ شعار ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایک مسافر کے ساتھ اور خصوصاً تیسرے درجے کے مسافروں کے ساتھ ہر موقعہ یہ خوش خلقی سے پیش آئیں۔میں آپ صاحبان کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ آپ نے میری معروفا کو توجہ سے نا اور امید کرتا ہے کہ آپ اپنے حلقہ اختیار میں انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش بھی کریں گے۔دوران تقریں حاضرین کے پیروں کو غور سے دیکھتا رہا۔کچھ تو پوری تو جہ سے سن رہے تھے اور نوٹ کرتے جاتے تھے کچھ غور سے سن رہے تھے اور ان کے پیروں سے ظاہر تھا کہ شوق سے سن رہے ہیں۔بعض کے ماتھوں پر شکن تھے اور پیروں ر حیرت کہ یہ کی ہو رہا ہے اور پریشانی کہ آئندہ کیا ہوگا۔بعض پروں پر تیری بھی تھی کہ یہ داڑھی والا مولوی کہاں سے آگیا جو تم کو حکمت سکھانے کی بے سود بلکہ گستاخانہ کوشش کر رہا ہے۔جی آئی پی ریلوے کے متعلق میرے کانوں تک