تحدیث نعمت — Page 336
میں خدمت کرتے گزرے ہیں۔تمہارا نام لیکر کہا کہ اس سارے عرصے میں مجھے ایک ایسے شخص کا تجربہ ہوا ہے جس نے رسوں ملکی خدمت کی ہے لیکن کبھی مجھ سے کسی بات کی خواہش نہیں کی اور حال ہی میں جب میں نے اس سے کہا کہ میں تمہارےلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں تو اس نے کہا تم میرے لئے کیا کر سکتے ہو؟ میں نے عرض کیا میں نے وائسرائے کو توان الفاظ میں جواب نہیں دیا تھا۔انہوں نے آپ سے اس رنگ میں بیان کرنا مناسب خیال کیا۔سر ڈگلس بینگ کا بطور چیف جسٹس سی میاء میں سرشاری لال نے چیف جسٹس کے عہدے کا چاہت تھوڑ پنجاب ہائی کورٹ میں تقرر ! | اور سر کس بنیگ الہ آباد ہائی کورٹ سے انکی جگہ چیف جسٹس ہوئے سرشاری لال نے ہائیکورٹ بار کے اراکین کو فسٹ پینے کے اجلاس کےکمرے میں بلوایا تا کہ نئے چیف جسٹس سے ان کا تعارف کرا یا جائے۔جب سرڈ کلکس بینگ نے میرے ساتھ مصافحہ کیا تو فرمایا چودھری صاحب میں چاہتا ہوں ہم جلد مل سکیں۔میں نے کہا جب آپ کا ارشاد ہو میں حاضر ہوجاؤں گا مجھے کچھ تعجب بھی جو کہ انہوں نے میرے نام کی بجائے چودھری صاحب کہ کر خطاب کیا۔وہ ایک دن قبل ہی لاہور پہنچے تھے اورپہلے سے مجھے جانتے بھی نہیں تھے۔دوسرے بھی ان ان کا پیام ملا کہ آئندہ اور ہم سے لو اتوار کے دن میں چیف جسٹس کے ہاں جانے کے لئے کاریں بیٹھا تھا کہ شد سے سردار سکندر حیات خالصاحب کا ٹیلیفون آیا۔انہوں نے فرمایا۔میں خصت پر بجا رہا ہوں میں نے اپنی جگہ کام کرنے کیلئے سرائیلزارون کا نام تجویز کیا تھا۔مگرگورنر سر ریٹ ایمرسن نے کہا ہے کہ پہلے تم سے دریافت کر لوں۔اگر تم رضامند ہو تو اس عرصے کیلئے وہ تمہارا تقر مناسب سمجھتے ہیں۔میں نے کہا میرا پروگرام انگلستان جانے کا ہے میں ان دنوں یہاں موجود نہیں ہوں گا۔انہوں نے فرمایا سنا ہے تم ہر جون کو شملے آرہے ہو آؤ گے تو بات کریں گے۔میں چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔بیٹھے ہی فرمایا چودھری صاحب آپ میرے ساتھ اجلاس میں کیوں شامل نہیں ہو جاتے ؟ میں نے کہا مجھے جی کی خواہش نہیں۔پوچھ گر میوں کا کیا پروگرام ہے ؟ میں نے کہا انگلستان جانے کا ارادہ ہے۔کہنے لگے میں بھی تعطیلات میں یورپ جھاؤں گا وہاں ملاقات ہوگئی۔لیکن ایک وعدہ کرتے جائیں کہ اگر کسی وقت تمہاری رائے میں تبد علی مونت بلا تکلف مجھ سے کہدیں۔میں پہلی مستقل آسامی کیلئے تمہارا نا بھیج دوں گا۔میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت حاصل کی۔ان کا سلوک میرے ساتھ ہمیشہ بہت مشفقانہ رہا۔عدالت کے اعلاس میں بھی بے تکلفی سے مجھے چودھری صاحب کہ کر خطاب کرتے۔عموماً فوجداری بنچ میں شریک ہوتے تھے۔دیوانی کا کام بہت کم کرتے تھے دیوالئے کے کم میں البتہ دلچپی لیتے تھے۔ان کے آنے سے پہلے یہ دستور تا کہ فوجداری اور خصوصا قتل کی اپیل میں سال کے کل سارا ریکارڈ پڑھ کر سناتے۔کہیں کہیں شماریت استفادہ کے متعلق کوئی تنقیدی فقرہ بھی کہ دیتے اور آخر میں مختصر دلائل پیش کرتے جن کا جواب سرکاری وکیل دیتے، انہوں نے آتے ہی یہ طریق بدل دیا۔پہلی اپیل کی سماعت کے وقت ہی کہ دیا۔میرے شریک اجلاس اور میں ریکارڈ پڑھ کر آتے ہیں۔ہمیں ریکارڈ پڑھ کر سنانے کی ضرورت نہیں۔دلائل کی تائید میں ریکارڈ کے حسین حصے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہو اس کا حوالہ