تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 330 of 736

تحدیث نعمت — Page 330

ھورے تھوڑے : یارک کے ہوٹلوں کے اشتہار نظر آتے رہے۔انہیں دیکھ کر میں نے قیام کیلئے پر موٹ ہوٹل کا انتخاب کیا تو گرینڈر سنٹرل سٹیشن سے قریب ہی تھا۔ہوٹل کے اندر ہوا ٹھنڈی کی ہوئی تھی جس سے گرمی کی زحمت سے بچاؤ کہ تا ان دنوں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بہت کساد بازاری تھی اور صدر روزہ ویلیٹ کی نیویل NEW DEAL کا بہت پھر چاتھا۔اگر چہ دو سال قبل بر طانیہ کے سکے کی قیمت سونے کا معیار ترک کر نیکی وجہ سے گر گئی تھی لیکن پھر بھی ڈالر کے مقابلے میں سٹرلنگ مضبوط حالت میں تھا۔ان دنوں ایک پونڈ کے پانچ ڈالر ملتے تھے اور نیو یارک میں سب اشیاء نستنا سستی معلوم ہوتی تھیں لوکل آمد و رفت کے ذرائع تو بہت ہی سنے تھے میں یا پبلی کی ریل پر جہاں سے جہاں چاہتے پہلے جاؤ کر یہ فقط پانچ سینٹ تھا اور سینٹ تھے ایک شکنگ کے ۲۵! البتہ فتنے ایوینیو کی سہوں پر کر ایو سن سینیٹ تھا یعنی پانچ نہیں سے کچھ کم نیو یارک کی سی کا ایک طرف یہ تھاکہ نتھ ایونو کی کسی بس پر سوار ہو کر دور کے رشتے پر بیٹے شہر کی آخری مدتک لے جائیں۔میں نیو یارک صرف تین دن ٹھہرا لیکن سارا وقت سر می گذرا مجھے بعدمیں کئی بار نیو یارک جانا ہواہے اور کی و فعہ میرا قیام خاصے لمبے عرصے کیلئے ہوتا تھا۔وسط اگست لہ سے شروع فروری تله متک تو میرا ستقل قیام نیو یارک میں بجا تھا لیکن بعض مقامات جو میں نے ان تین دنوں میں دیکھے پھر دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا۔مشکی آزادی کے بت تک گو میں ایک بار پھر گیا ہوں۔لیکن سبت کے اندر جاکریت کی آنکھوں میں سے سمندر کا نظارہ میں نے ان تین دنوں کے قیام میں ہی کیا۔نیو یارک سے میں واپسی ٹورنٹو کیا کیونکہ یں وہاں ایمپائہ پارلیمنٹری ایسوی ایشن کی کینیڈین شاخ میں تقریر کر نامنظو WORLD 1940 ٹورنٹو سے فارغ ہو کر میں شکاگو گیا جہاں ہوٹل مارلین میں کر چکا تھا۔شکاگو کا پہلا سفر اور FAITHS CONGRESS میں شمولیت | مہاراجہ صاحب برود و عالی ندا یا اس کا اتار کرنے والے تھے اور اس میں مجھے بھی تقریر کرنا تھی۔ان دونوں شکا کو میں صد سالہ نمائش بھی ہو رہی تھی جس کی وجہ سے وہاں غیر معمولی رونق تھی۔صوفی مطیع الرحمن صاحب اس زمانے میں وہاں سلسلہ احمدیہ کے مبشر تھے وہ از راہ کرم اسٹیشن پر پیشوائی کیلئے آئے ہوئے تھے۔ان کے ہمراہ ان کے چند امریکن دوست بھی تھے جو مجھے اتنے ہوش اور تپاک سے ملے گویا برسوں کے بچھڑے بھائی ہوں۔مغربی ممالک میں پہلی ہی ملاقات پر استقدر تپاک اور بے تکلفی کا اظہار میرے لئے اچنبھا تھا اور کسی قدر وقت کا موجب بھی اسٹیشن سے ہم سب ہوٹل گئے۔صوفی صاحب نے میرے لئے کانگہ میں ہوٹل میں کمر سے رکھا تھا۔میں اس انتظار میں تھا کہ ہوئی پہنچ کر سوفی صاحب کے ساتھ تھیلے میں مٹھ کر گفتگو کاموقع ملے گا پر وگرام طے ہوگا۔عالمی مذاہب کانگریس کے متعلق ضروری معلومات حاصل ہوں گی۔منہ ہاتھ دھونے اور کپڑے بدلنے کاموقعہ ہو گا لیکن ہوٹل پہنچ کر ان میں سے ایک بات بھی نہ ہوسکی صوفی صاحب کے امریکن دوست کمرے میں بھی ہمارے ساتھ آگئے اور اطمینان سے کرے پر قابض ہوگئے کوئی کرسی پر بیٹھ گیا کوئی صوفے پر کوئی میز پر دو تین تو لنگ پر ھی بیٹھ گئے مجھ پر سوالوں کی بوچھاڑ جو اسٹیشن ہی سے شروع ہوگئی تھی۔جب