تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 316 of 736

تحدیث نعمت — Page 316

114 نواب صاحب بھوپال کو مہاراجہ بھوپالی کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے۔لیکن ان کی بات سے مجھے یہ اطمینان ہو گیا کہ پنجاب اور بنگال میں ہماری نمائندگی میں تخفیف کی بخونیدان کی طرفسے ہوئی تھی نہ کہ دور یہ ہند کی طرف سے۔نئے آئین میں ہندوستان کے مالیات پر تیری گول میز کانفرنس میں تسلیم شدہ اصولوں کو علی حکومت برطانیہ کا اختیار بدستور قائم رکھنے کی تونی جامہ پہنانے کی سعی ہوتی رہی۔ایک مشکل سوال مجد در پیش تھا وہ ہندوستانی مالیات پر وزیر ہند کے اختیارات سے متعلق تھا۔ہندوستانی مندوبین کا مطالبہ تھا کہ نئے آئین میں ہندوستانی مالیات پر حکومت ہند کو پورا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔برطانوی نمائندگان کی طرف سے اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس صورت میں ہندوستان کی ساکھ کولندن کے مالی حلقوں میں صدر مسنجے گا اوریہ امر بتادی کے لئے مالی نقصان کا باعث ہوگا۔مالی ذمہ داری کے لندن سے دہلی منتقل کرنے کے تعلق میں جو سوال پیدا ہوتے تھے ان پر غور کرنے اور ان کا حل سوچنے کیلئے وہ یہ بنانے کی مال کمیٹی قائم کی اور یکم دن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ایک نمائیندہ اس کمیٹی کے لئے نامزد کریں۔ڈاکٹر شفاعت احمد خالی صاحت ہے مالی مسائل کا کسی حد تک مطالعہ کیا ہوا تھا ار فیڈرل مالی نظام پر ایک سالہ بھی شائع کر چکے تھے۔میری تجویز پران کا نا اس کمیٹی کیئے بھیج دیا یہ دو تین دن بعد سر لطیف نے ہز ہائی حسن آغا خان کی خدمت میں گذارش کی کہ رزمیہ ہند نے خواہش ظاہرکی ہے کہ مال کمیٹی کیلئے لا الہ عالی کو نامزد کیا جائے۔مجھے تو مالیات کا تجریہ تھانہ میں نے ان مسائل پر غور کیا تھا اور پھر وقت یہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب کو نامزد کیا جا چکا تھا۔ہز ہائی نس آغا خاں نے فرمایا میں نے شفاعت احمد خاں سے ذکر کیا ہے وہ رضامند ہیں کہ انکی سجائے تمہیں نامزد کر دیا جائے۔نا چارہ مجھے اس کمیٹی میں شامل ہونا پڑا۔اس کمیٹی کے باقی تمام اراکین الیات کے ہر یا کم سے کم مالیات میں تجربہ رکھنے والے اصحاب تھے۔میری نشست سر پر شو تم اس ٹھاکر داس کے پہلو میں تھی۔میں نے بحث میں بہت کم محل نے میں بہت حصہ لیا البتہ جو کچھ کہا جاتا رہا اسے تو جہ سے سنتانہ ہا۔ابتدائی تبادلہ خیالات کے بعد وزیر ہن نے تجویہ کیا کہ سیٹی کے اراکین بک آن انگلین کے گورنری رایگان امن اور انگلستان کے پانچے پیسے بنکوں کے صدر افسروں سے بھی تبادلہ خیالات کر لیں۔چنانچہ اس غرض کے لئے کیٹی کے اراکین بنک آن انگلینڈ میں گورینز صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے ساتھ انگلستان کے پانچ بڑے نیکوں کے افسران اعلیٰ بھی موجود تھے ان سب کی رائے سوید گورنر صاحب سے متفق تھی۔گورنہ صاحب بات کرتے کرتے یہ کتنے اور اپنے رفقا سے سوال کرتے۔کیوں صاحبان ایسا ہی ہے یا نہیں ؟ اور وہ اثبات میں سر ہلا دیتے۔گورنر صاحب کی رائے کا خلاصہ یہ تھا۔لندن کے مالی حلقوں میں مندوستان کی ساکھ بہت بلند ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان جو قرضہ لیتا ہے اس کے سود اور اصل کی ترقیت ادائیگی کی ضمانت وزیر بند دیتے ہیں اس کے نتیجے میں اس ملک کے ان طبقوں میں جو اپنا روسپی ان قرضوں میں لگاتے ہیں ہندوستان پر اعتماد ہے۔ہندوستان کو اس سے یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ جب بھی روپے کی ضرورت ہوتی ہے اسے قرضہ ملے میں