تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 306 of 736

تحدیث نعمت — Page 306

تقال کیا۔میاں صاحب کے زور دینے پر کہا باجپائی کی صحت اچھی نہیں خون کے دباؤ کا عارضہ ہے۔آخری طے پایا کہ باجپائی صاحب وی اینا مجاکہ معائنہ اور علاج کرائیں اور جب صحت کی بحالی کا سرٹیفکیٹ پیش کریں توان کا تقریر طوسی کیریری کیا جائے۔وہ رخصت پرگئے تو سوال پیدا ہوا کہ قائمقام سیکر یٹری کون ہو۔میاں صاحب نے میسر رام مندرہ کی سفارش کی وائسرائے نے کہا یہ عارضی فقر ہے مسٹریڈ سروس میں بھی سنی ہیں اور محلے میں بھی سنی میں قائمقام سیکریٹری انہیں ہوتا چاہیے۔جب میاں صاحب رخصت پر گئے تو مٹر ریڈ قائمقام سیکر ٹری تھے، مسر رام چندرہ قائمقام جائنٹ سیکر یٹری تھے اور مسٹر صالح اکبر حیدری تا ئمقام ڈپٹی سیکریٹری تھے۔مجھے چارج لئے ابھی تین ہفتے ہوئے تھے کہ باجپائی صاحب نے وہی آنا سے بھائی صحت کا سر ٹیفکیٹ بھیج دیا۔سول سرجن صاحب نے تصدیق کی کہ با بھائی صاحب کی صحت اب بالکل بجال ہو چکی ہے۔میں نے وائسرائے سے ذکر کیا اور اجازت چاہی کہا میں ان کی تقرری کا حکم لکھ دوں انہوں نے فرمایا لکھ دو اگرچہ جھے سمجھ نہیں آتی فضل حسین کیوں اس کے اتنے گرویدہ ہیں۔میں نے کہا اب جائنٹ سیکریٹری کی جگہ بھی خالی ہوگی اسے بھی پیر کرنا ہے واٹرے نے کہا میں تو چاہتا تھا کہ ریڈ کو جائنٹ سیکریڑی کیا جائے کیونکہ وہ سنٹر سے لیکن فضل حسین اسے پسند نہیں کرتے تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا مجھے کام کرتے تھوڑا عرصہ ہوا ہے میں ابھی ریڈ اور رامچندرہ کے کام کا صحیح اندازہ * نہیں کر سکا آپ دوسرے پر جارہے ہیں آپ کی واپسی پر کچھ عرض کروں گا۔چند دن بعد مسٹر ریڈ نے میرے ساتھ ذکر کیا کہ مسٹر باجپائی کے واپس آنے پر جائنٹ سیکریٹری کے تقرر کا سوال پیدا ہو گا مجھے سرفضل حین نے کہا تھا کہ تم سیر و تا افق فضل ہے۔امید ہے تم اس کے ساتھ اتفاق کروگے میں نے کہا مجھے تو میں اس نے ایسا نہیں کیا مری نے پوچھا کیا مجھے اجازت ہے کہ مں سر فضل حسین کو خط لکھوں اور ان سے وضاحت کر لوں۔میں نے کہا بیٹی کھٹے میری طرف سے اجازت ہے۔میں نے خود بھی میاں صاحب کی خدمت میں لکھ دیا کہ مجھے خوب یاد ہے آپ نے اس معاملے میں مجھے کیا ارشاد فرمایا تھا۔لیکن چونکہ مسٹریڈ کو کچھ غلط نہیں ہے اس لئے میں نے اسے اجازت دیدی ہے کہ وہ آپ کی خدمت میں وضاحت کیلئے خط لکھ دیں۔میابی صاحب کی طرف سے جواب آیا کہ مں نے ریڈ کے خط کے جواب میں وضاحت کر دی ہے۔میاں صاحب اپنے والا ناموں میں مہمیشہ مجھے ڈیر ظفراللہ کے الفاظ سے مخاطب کیا کرتے تھے۔اس خط میں انہوں نے ڈیڈ چو دھری صاحب لکھا۔میں نے جواب میں لکھا کہ میں کسی تقصیر کی پاداش میں ظفر اللہ سے چودھری صاحب ہو گیا ہوں۔جواب میں فرمایا اب تم بڑے عہد پر متعین مجود میں نے خیال کیا شاید اب نام سے مخاطب کیا جانا تم پہ گراں گذرے۔میں نے اس پر احتجاج کیا تو مجھے تسلی دی کہ میرے دل میں تمہارے متعلق کوئی تبدلی نہیں۔میں نے خیال کیا ممکن ہے میانی صاحب نے طرز خطاب میں تبدیلی میری آنہ مائش کے طور پر کی ہے۔واللہ علم بالصواب۔مسٹر ریڈنے مجھے بتایا کہ ان کے خط کے جواب میں سر فضل حسین نے انہیں رو خط لکھے ہیں۔ایک سیمی جو ان کے خط کے جواب کے طور پر سل پر رکھا جائے گا۔اس میں اتناہی لکھا تھا میں نے قائمقام وزیہ کواپنی رائے لکھ بھیجی ہے۔دوسرا خط پرائیویٹ تھا جس میں میاں صاحب نے وضاحت کی تھی کہ ان کی قائمقام