تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 305 of 736

تحدیث نعمت — Page 305

محکمہ جات کے افسران دروسری صبح میں دفتر گیا میٹریڈ میرے کمرے میں تشریف لے آئے اور میرے محکموں کارکنان سے پہلی تعارفی ملاقات کے بر افسر سپر نٹنڈنٹ ، اسسٹنٹ اور کلرک کے کرے میں جاکر ایک ایک کے ساتھ میرا تعارف کرایا۔دو سپر تک میں نے اپنے مختلف محکموں کے سینکڑوں کارکنان کے ساتھ ملاقات کی۔میرے قلمدان میں تعلیم صحت اور اراضیات کے علاوہ تیرہ چودہ متفرق محکمہ جات شامل تھے مثلاً آثار قدیمہ ، سمندر پار لینے والے ہندوستانی سروے آف انڈیا وغیرہ وغیرہ۔RATES TRIBUNAL۔۔CAPITATION | ہندوستان میں جو بر طانوی فوج کے دستے رکھے جاتے تھے میں حکومت ہند کی طرف سے پیروی کی پیش کش ان کی تنخواہیں اور الہ اخراجات تو ہندوستان کی طرف سے ادا ہوتے ہی تھے لیکن ان کے علاوہ ان دستوں کی بھرتی اور ریٹنگ پر جو اخراجات حکمت برطانیہ نے برداشت کئے ہوتے تھے ان کا ایک حصہ بھی ہندوستان کوادا کرنا ہوتا تھا۔ان واجبات کا نام CAPITATION CHARGES تھا۔انکی بوشر تجویز شدہ تھی اس پر ہندوستان کی طرف سے عذر کیا گیا تھا کہ اس میں تخفیف ہونی چاہئے۔اس قضیے کے تصفیے کیلئے ایک عدالت قائم کی گئی تھی جس میں دو برطانوی حج شامل تھے اور دو ہندوستانی مجھے سرشاہ سلیمان چیف جسٹس الہ آباد ہائی کورٹ اور سر شادی لالی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ شامل کئے گئے تھے۔ایک آسٹریلین مج صدر تھا۔اس عدالت کا نام CAPITATION RATES TRIBUNAL تھا۔اس کے اجلاس لندن میں ہونیو الے تھے میرے شملہ پہنچنے کے چند دن بعد وائسرائے نے میرے ساتھ ذکر کیا کہ کی نڈر انچیف چاہتے ہیں کہ اس عدالت کے روبردہ سہندوستان کی طرف سے تم دوکالت کرد۔ادھروز یہ سند مر ہی کہ تم میری گول میز کانفرنس میں ضرور شامل ہو۔دونوں کا وقت ایک ہی ہے تم جیسے چاہو انتخاب کر لوں مجھے سوچ کر بتا دیا۔میں نے عرض کیا مجھے سوچنے کی ضرورت نہیں۔میں کمانڈر انچیف کا ان کے انتخاب کیلیے نہایت ممنون ہوں لیکن میں گول میز کانفرنس میں جانا چاہتا ہوں کیونکہ اس سمجھتا ہوں رہاں میں اپنے ملک کی عموماً اور سانوں کی شخصیت زیادہ مفید خدمت کرسکوں گا میں نے سمجھ لیاکہ محکمہ دفاع کے مراسلہ کے مسودہ میں جو ترامیم کونسل کے اجلاس میں میں نے تجونیہ کی تھیں وہ کمانڈر انچیف کو مناسب معلوم ہوئیں اور اسی لئے ان کی طر سے محد یا اعتماد کا اطمانہ ہوا۔گومیں کمانڈر انچیف کی اس تجویہ کے مطابق تو عمل نہ کر سکا لیکن وہ جب تک ملازمت میں رہے مجھے ہمیشہ انکا اعتماد حاصل رہا۔منشن پر چلے جانے کے بعد بھی جب کبھی انگلستان میںملاقات کا اتفاق ہوتا وہ بہت تپاک سے ملتے اور بڑی تواضع سے پیش آتے۔حکمہ تعلیم، صحت واراضیات کے سکریٹریٹ میں اسی سال کے اوائل میں میرے نفر سے پہلے مکہ تعلیم صحت و انگریز افسران کی بجائے ہندوستانی افسران کا تقریر داراضیات کے سکریٹری سرفر یک نوائیں وائٹ دینے کی مجلس عاملہ کے رکن مقرر ہوئے تھے۔میں نے ایسے ہی میاں صاحب سے دریافت کیا کہ انکی جگہ سکریٹری کون ہو گا۔انہوں نے فرمایا یا ہائی کو سیکی بڑی ذ کیا گیا تو بڑی بے انصافی ہوئی۔چنانچہ آپنے سرگز با شکر یا جہائی کی سفارش کی وائسرائے نے کچھ "