تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 298 of 736

تحدیث نعمت — Page 298

۲۹۸ نے اس قطعہ پر اپنا مکان تعمیر کر لیا اور وہ ان کی مستقل رہائش گاہ بن گیا۔گول میز کانفرنس کی مشاورتی کمیٹی گول میز کانفرنس کے کام کو ہندوستان میں جاری رکھنے کیلئے ایک مشاورتی کمیٹی زیر صدارت کارٹرو لنگڈن وائسرائے ہند قائم کی گئی تھی۔مجھے بھی اس میں نامزد کیا گیا تھا اس کا اجلاس دائرے کی صدارت میں دلی میں بلایا گیا مسلمانوں کو انتظار تھا کہ حکومت برطانیہ فرقہ وارانہ نیابت کے متعلق اپنا فیصل صادر کرے، ہمیں تاخیر سورہی تھی۔اس لئے مسلمانوں میں یہ تحریک شروع ہوئی کہ سلمان نمایند مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں شامل نہ ہوں۔اس سلسلے میں مولانا شفیع داودی صاحب میرے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایاکہ تم کمیٹی کے اجلاس میں شامل نہ ہونا۔میں نے دریافت کیا کہ کیا یہ زیادہ موثر نہ ہو گا اگر شامل ہوکر کمیٹی کی مزید کاروائی کا اعلان فیصلہ فرقہ وارانہ ثابت بند کرا دی جائے۔فرمایا بیشک یہ زیادہ موثر ہو گا لیکن اس کی کیا ضمانت ہے کہ کاروائی بند کر دی جائے گی۔میں نے عرض کیا میں ضامن ہوں۔چنانچہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔مجوزہ ریلوے اتھارٹی پر غور شروع ہوا۔میری باری آئی تومیں نے کہا جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ املی میں ہمارا کیا تناسب ہو گا ہم کسی معاملے پر غور میں حصہ نہیں لے سکتے۔مختصر بحث کے بعد دائر ایے نے اجلاس ملتوی کر دیا اور اس طرح مشاورتی کمیٹی کا خاتمہ ہو گیا۔۔۔وائسرائے کی کونسل پر عارضی تقرر اپریل اسلام میں ایسٹر کی تعطیلات میں میں والدہ صاحبہ سے ملنے کیلئے لاہور گیا۔وہاں مجھے ٹیلیفون پر پیغام ملا کہ میاں سر فضل حسین صاحب کا ارشاد ہے کہ دلی واپس جاتے ہوئے میں شملے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوں۔کا لکا سے شملے جاتے ہوئے بار بارہ موٹر کاٹا ٹر خراب ہوا اور میں اپنے اندازے کی نسبت تین گھنٹے دیر سے پہنچا۔میں پریشان تھا کہ میاں صاحب دق ہوں گے کہ میں وقت پر نہیں پہنچا۔اور ممکن ہے دو پر کے کھانے پر بھی میرا انتظار کیا ہو۔میاں نسیم حسین صاحب نے بتایا کہ میاں صاحب تو دو ہفتوں سے مناسبت فراش ہیں۔بہت کم نیچے تشریف لاتے ہیں۔مجھے اپنے کمرے ہی میں طلب کیا اور فرمایا میری حالت دیکھ لو۔میں نے لاچار ہو کر دائرے سے کہ دیا ہے کہ مجھے از ما چار مہینے رخصت پر جانا ہو گا۔میں نے دریافت کیا کہاں جانے کا ارادہ ہے۔فرمایا ابیٹ آبادمیں انتظام کیا ہے۔میں نے عرض کیا ایبٹ آباد بلندی اور آب و ہوا کے لحاظ سے تو موزوں ہوگا کیونکہ زیادہ بلندی پر نہیں اور آب و ہوا معتدل ہے۔لیکن اگر چند دن بارش نہ ہو تو سڑکوں پر گرداٹر نے لگتی ہے لہذا مکان ایسی جگہ ہونا چاہیے جہاں گردے کی تکلیف نہ ہو۔فرمایا ملک پورے میں ایک مکان مل گیا ہے جو ٹرک سے ہٹ کر واقعہ ہے اور ارد گرد باغیچہ بھی ہے۔اب گفتگو اس نہج پر چلنے لگی کہ میاں صاحب کوئی الیسا جملہ فرما دیتے جس کا تعلق ان کے رخصت پر جانے کے ساتھ ہوتا اور میں اس کا لفظی جواب عرض کر دیا۔مجھے احساس ہونے لگا کہ وہ چاہتے ہیں میں یہ دریافت کروں کہ انکی غیر حاضر میں انکی جگہ کون کام کریگا۔میں نے