تحدیث نعمت — Page 274
بات بھی نہیں تھی۔جوں نے سر ہلا کر کہنا شروع کیا کہ یہ بات تو بتی نظر نہیں آتی۔مجھے گھیرا ہٹ ہوئی کہ بات تو آسان ہے لیکن اسے واضح کیسے کیا جائے میں نے ایک آدھ بار چند لفظ لکھ کر نیٹ وکیل کودیئے بھی لیکن وہ توجہ نہ دے سکے سٹر ڈولڈ بھی قریب ہی بیٹھے تھے میں نےانہیں بھی کچھ لکھ کر دیا۔اتنے میں جوں نے اپنی نوٹ کیوں نہ کرنا شروع کیں۔حسن اتفاق سے لارڈ لینیز برگ نے میری طرف دیکھا اور میرے چہرے سے میری گھبراہٹ کا اندازہ کر کے فرمایا۔شاید تم معادی کچھ مد کر سکو۔میں نے گذارش کی اگر آپ اجازت دیں تو میں کوشش کروں۔فرمایا مزور ضرور اور مجھے اشارہ کیاکہ تم بحث کرد۔میں نے عرض کیا جناب عالی پیشتر اس کے کہ میں شجرہ نسب اور نہ بانی شہادت میں تطابق کی کوشش کردی چند تمہیدی الفاظ گذارش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔جو شکل آپ محسوس کر رہے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس مقدمے میں گواہان کے بیانات پنجابی زبان میں ہوئے اور اردو زبان میں لکھے گئے ان کا انگریزی میں ترجمہ ہوا جو لندن میں آپکو سنایا جارہاہے اور آپ اسے ترجمہ نہ سمجھتے ہو اصل سمجھ کر اسکی تعبیر اس طور پر کرتے ہیں گویادہ الفاظ ایک انگریزی نے لندن میں بیان دیتے ہوئے کہے ہیں۔ان الفاظ کو جب آپ شجرہ نسب کے اندراجات پر چسپاں کرتے ہیں تو ان میں تطابق نہ پا کر پریشان ہوتے ہیں۔اور اس نتیجے کی طرف مائل ہوتے ہیں کہ یا شجرہ نسب فرضی ہے یا شہادت جھوٹی ہے۔مثلا گواہ کا بیان ہے کہ شخص الف شخص ب کا بھائی تھا آپ شجرہ نسب میں الف اور رب کو تلاش کرتے ہیں۔الف کا نام شجرہ نسب کے دائیں کنارے پر درج ہے اور ب کا نام اس سے کہیں ہٹ کر بائیں جانب درج ہے۔الف کا باپ آج درج ہے۔اور ب کا باپ د لکھا ہوا ہے۔آپ سوچتے ہیں یہ دونوں بھائی کیسے ہوئے ان کے تو باپ مختلف ہیں بلکہ ان کے تو باپ بھی آپس میں بھائی نہیں یہ تو دور کے COUSINS ہیں اور ایسا تفاوت صرف ایک جگہ نہیں کہ اسے اتفاقیہ غلطی سمجھ لیا جائے یہ تفاوت بار بار سامنے آتا ہے۔میری گذارش ہے کہ یہ تفاوت محض ظاہری ہے اور انگریزی اور پنجابی زبانوں کا تفاوت ہے شہادت اور شجرہ نسب کا تفاوت نہیں۔اگر ایسا ہوتا۔تو اول تو عدالت ابتدائی ہی جس کے رو برد اشتہار دیگئی تھی شجرہ نسب کو اس وجہ سے رد کر دیتی۔درنہ ہائی کورٹ اپنے فیصلے کی تائید میں اس کا ذکر کرتی مگر الیسا نہیں ہوا۔تو پھر اس معتمے کا حل کیا ہے ؟ انگریزی زبان میں بھائی سے مراد ہوتی ہے ایک ماں باپ کے بیٹے۔پنجابی زبان میں ایک ماں باپ کے بیٹوں کو بھی بھائی کہتے ہیں دو بھائیوں کے بیٹوں کو بھی بھائی کہتے ہیں۔دو چا زاد بھائیوں کو بھی بھائی کہتے ہیں۔اور سب ایسے بھائیوں کے بیٹے بھی ایک دوسرے کے بھائی کہلاتے ہیں۔پنجابی میں COUSIN کا مترادت کوئی ایک لفظ ہے ہی نہیں۔اگر وضاحت کی ضرورت پڑ ہی جائے تو چاند او بھائی ، خالہ زاد بھائی ، پھوپھی زاد بھائی ، ماموں زاد بھائی کہ لیا جائے گا۔لیکن کہلائے گا وہ بھائی ہیں۔یہ تو ہر زبان کا اپنا اپنا اسلوب ہے۔مثلاً انگریزی میں S ROTHER - IN - LAW کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔بیوی کا بھائی۔