تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 265 of 736

تحدیث نعمت — Page 265

۲۶۵ کی تقریر کا جواب مجھے دینا چاہیے۔میں نے کھڑے ہو کہ اس امر کی وضاحت کی کہ یہ سوال کسی پارٹی سے متعلق نہیں کونسل کے اور کونسل کے اراکین کے احترام کا سوال ہے ہم نہ رکین کونسل کے بیان کو ر ذکر تے ہیں نہ ہ کمشنر صاحب کے بیان کو ہمارا مطالبہ فقط یہ ہے کہ اس واقعہ کی حقیقت معلوم کی جائے۔بیشک ایک بیان کے مقابل دو سر ابیان ہے تغیر کوئی شخص موجود نہیں تھا۔لیکن یقیناً قائد ایوان کا اور ہم میں سے کثر کا یہ تجربہ ہے کہ مناسب غیر جانبدارانہ تحقیقات سے ایسے قرائن روشنی میں آجاتے ہیں تین پر غورہ کرنے سے اصلیت کا صحیح اندازہ کیا جاسکے۔ایک ذمہ دار رکن کونسل نے کونسل کے اجلاس میں یہ بیان کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب نے انہیں بلا کہ دھمکایا۔انہوں نے وہ الفاظ دہرائے ہیں جو ڈ پٹی کمشنر صاحب نے استعمال کئے۔ان حالات میں کونسل کا فرض ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کیے کہ اس واقعہ کی مناسب غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے۔یہ مطالبہ ن صرف جائز اور معقول ہے بلکہ اسے کسی صورت گریز نہیں کیاجاسکتا ایالاہیں چھوڑ دیا جائے واندیش ہے کہ یا اور اراکین کونین کے احترام اور انار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا جب میں نے تقریم کی تومولوی سر ی ی نیش صاحب نے فرمایا۔انشاء اللہ ماشاء اللہ ہم تائید می رائے دیں گئے۔رائے شماری پر تحریک التوا منظور ہوگئی۔ایک دو روز بعد میاں صا نے مجھ سے فرمایا۔تم نے جوش میں آکر تحریک تومنظور کر لی۔اب اسکا نتیجہ بھی دیکھو تم جانتے ہو مجرے کس قدر ہمدرد گورنہ ہیں۔اور ہر جائز بات میں ہمارے مطالبات کی تائید کرتے ہیں۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ کونسل کے می اختیارات میں اینزادی کا مسئلہ زیر غور ہے۔مجھے ان معاملات میں کونسل اور ان کے مطالبات کے ساتھ پوری ہمدرد ے اور میں ہر جائز مطالبے کی تائی کے لئے تیار ہوں لیکن اس قسم کی تحریکات کو اس بات کی تائید میں بطور دلیل میں کیا جائیگا کہ کونسل اپنے موجودہ اختیارات کو ذمہ دارانہ طریق پر استعمال نہیں کرتی۔میں نے میاں صاحب کی خدمت میں گذارش کی کہ حالات پیش آمدہ میں اگر کونسل اتنا مطالبہ بھی نہ کرتی تو اپنی ذمہ داری کے نبھانے میں ناصر شمار کی جاتی مسٹر در سلے میک سینی انفرمی لیکن یہ تسلیم کرناکہ ہر حالت میںایک سیر فر کا بیان ایک ناقابل تردید حقیقت کا درجہ رکھا میں ہے بڑی خطرناک مثال قائم کرنا ہو گا۔میاں صاحب مطمئن نہ ہوئے۔چند دن بعد مسرور سلے نے بغی انتظار کئے کہ حکومت کی طرف سے تحقیقات کا حکم صادر ہوتا ہے یا نہیں محض تحریک التوا کی منظوری کو شہک شمار کرتے ہوئے قبل پیش بھٹی پر پاے کی درخواست دے دی۔- اس واقعہ کے بعد گورنر صاحب کا چیف جسٹس صاحب کو میرے ہائی کورٹ کی جی پر تقری کیلئے رضامند کرنے کی کوشش کرنا ان کی انتہائی مشرافت اور میری نسبت ان کے حسن ظن کا ثبوت تھا لیکن یہ جانتے ہوئے بھی میں وزارت کا میلہ نے پہ رضامند نہ تھا۔چودھری سر شہاب الدین صاحب اپنی دھن کے پکے تھے جو بجو نبی ان کے ذہن میں پختہ ہو جائے اسے آسانی سے ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔مجھ سے دریافت کیا کیا حضرت مرزا صاحب قادیان تشریف رکھتے ہیں