تحدیث نعمت — Page 10
حضرت مولانا مولوی نورالدین جان بعد مشورہ جس میں اراکین صدر انجمن شمل تھے۔یہ طے پایا کہ حضرت خلیفة المسیح اول کا انتخاب مولوی نور الدین صاحب نے حضور علیہ السلام کے خلیفہ ہوں اور آپ کی اطاعت جماعت پر ایسے ہی واجب ہو گی جیسے حضور علیہ السلام کی واجب تھی۔حضرت مولوی صاب نے یہ درخواست منظور فرمائی اور ایک مختصر تقریر فرمائی ہیں میں جماعت کو نئے حالات میں اپنے فرائض کی طرف توجہ دلائی اور پھر جماعت کی بیعت لی۔اور باغ کے اس حصہ میں جو آموں والا باغ کہلاتا تھا حضور کا جنازہ پڑھایا۔اور حضور کی تدینین مقبرہ بہشتی میں عمل میں آئی۔صَلَى اللَّهِ عَلِيهِ وَعَلَى سَيْلِ وَأَلَمَ وَصَحَابِةً خَلَفَهُ اجمَعِينَ - ۲۷ مئی مسلہ کی بات قادیان ٹھہر کر ۲۸ مٹی کو میں لاہور واپس آگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ستمبر تلہ سے لیکر حضور علیہ السلام کے وصال تک خاک رکو کئی دفعہ حیات میں حضور کی مجالس میں حاضری حضور علیہ اسلام کی مجلس میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ستمبر کی تعطیلات میں اور سالانہ جل کے ایام میں میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ قادیان محاضر مودا کرتا تھا حضور علیہ السلام جب سیر کو تشریف لے جاتے تو خاک بھی خدام کے زمرے میں رہا کرتا۔اور ظہر اور عصر کی نمازوں کے بعد مسجد مبارک میں بھی حضور کی مجلس میں حاضر رہتا۔کسی خاص مہمان کے آنے یا رخصت و دو حصونه باہر تشریف لاتے یا مسجد مبارک میں تشریف فرما ہوتے تو زیارت کا شرف حاصل ہو جاتا۔جب میاں فضل حسین صاحب انگلستان سے تعلیم کی تکمیل کے بعد واپس اپنے وطن بٹالہ تشریف لائے تو ان کے والد صاحب جن کے حضور علیہ السلام کے ساتھ خاندانی مراسم تھے۔انہیں ساتھ لیکر حضور علیہ اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے لئے دعا کی درخواست کی۔خاکسار اس موقعہ پر بھی حاضر تھا۔میاں فضل حسین صاحب نے آریہ سماج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی نسبت کچھ تشویش کا اظہار کیا۔جس پر حضور نے فرمایا۔آریہ سماج مذہبی جماعت کی حیثیت سے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے گا کیونکہ اس کی بنیاد روحانیت پر نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو عمر عطاء فرمائے تو آپ اپنی زندگی میں ہی آرمیدہ سماج کا بطور مذہبی جماعت کے زوال دیکھ لیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔میاں صاحب کی وفات سوائے میں ہوئی، اس وقت تک آریہ سماج کی مذہبی حیثیت ختم ہو چکی تھی۔صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب کی وفات کے وقت بھی خاکسار قادیان میں حاضر تھا۔اس وقت مہمان خانے سے جو رستہ ڈھاب کے بند پر سے حضور کے باغ اور بہشتی مقبرے کو جاتا ہے اس کے درمیانی حصے میں ڈھاب پریل نہیں تھا۔صاحبزادہ مبارک احمد کا جنازہ مقبرے تک لیجانے کیلئے ایک عارضی پل کی ضرورت پیش آئی جو جلدی میں سکول کے بچوں اور میزوں کے ساتھ تیارہ کیا گیا۔خاک رنے بھی اس کی تیاری میں حصہ لیا۔جنازے کے بعد تدفین میں کچھ وقفہ تھا کیونکہ برا بھی تیار نہ ہوئی تھی۔اس عرصے میں حضور اس قطعہ میں تو بعد میں خاص