تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 259 of 736

تحدیث نعمت — Page 259

۲۵۹ تائید حاصل ہے۔ممکن ہے ایسا ہو لیکن اراکین پنجاب کو نسل میں اس تجویز کا کوئی عامی نہیں تھا۔اسلئے انتخاب کے وقت کو نسل میں کوئی ایسی تجویز پیش نہ ہو سکی۔راجہ نریندر ناتھ صاحب | راجہ نریندر نا تھ صاحب کا خاندان سپنجاب کا ایک نہایت ممتانہ کشمیری بهر یمین خاندان تھا۔راتبه صاحب ہنهایت و ضعداره خوش اخلاق اور با مروت بزرگ تھے۔راجہ نریندر ناتھ صاحب پہلے پہل اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر مقرر ہوئے تھے اورکمشنر کے عہدے سے پنشن یاب ہونے کے بعد پنجاب کو نسل میں ہندو پارٹی کے لیڈر تھے۔طبیعت بڑی شگفتہ پائی تھی اور بہت فراخ دست تھے۔فارسی عربی میں خوب دسترسی تھی۔قرآن کریم کا نہ جمہ بھی جانتے تھے۔اسلامی تمدن سے متاثر تھے۔لیکن خاندانی روایات اور سیاسی اور معاشرتی ماحول انہیں جکڑے رکھتے تھے۔گھرمیں ان کا کھانا سلمان باورچی تیار کرتا تھا۔مصدقہ خیرات بھی ہند و مستحقین تک محدود نہیں رکھتے تھے۔ان کے صاحبزادے اندر کمار گورنمنٹ کالج میں ہمارے تم حیات نہ ہے تھے۔کونسل میں انکی ہندو پارٹی کی ایک رکن ایک خاتون لکھ وتی جنین تھیں انہوں نے ایک دن مجلس میں ایک تحریک التوا کا نوٹس دیا جس سے رابعہ صاحب بہت پریشان ہوئے۔چائے کے وقت بڑے جوش سے فرمارہے تھے خدا ان عورتوں سے بچائے تم نے دیکھا آج اس نے کیا حرکت کی ہے ؟ میرے دریافت کرنے پر فرمایا کہ لکھوتی کی تحریک التوا اس سخت سلوک کے خلاف ہے جو بقول لکھ وتی پولیس نے وکٹور یہ ڈائمنڈ جوبلی انسٹی ٹیوٹ کے پهرتانی طلباء کے ساتھ روانہ کھا حالانکہ واقعہ یوں ہے کہمیں انسٹی ٹیوٹ کی گورننگ باڈی کا چیئر مین ہوں۔مجھے آج لبعض طلباء کے متعلق ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ وہ ہڑتال میں شامل نہیں اور کلاسوں میں حاضر ہونا چاہتے یین کنندگان انہیں روکتے ہیں اور اندرجانے نہیں دیتے۔اس پرمیں نے ڈپٹی کنز کو شیفون پر کہا وطالب علم حاضر ہونا چاہتے ہیں ان کے اندر جانے کا نظام ہونا چاہیے۔اس نے دو چارہ کا میل بھیج دیئے جنہوں نے ہڑتال کنندگان کو روک دیا کہ جو طالب علم حاضر ہونا چاہتے ہیں ان کے رستے میں مزاہم نہ ہوں۔اب اس خبطی نے اس پر تحریک التوا کا افق نوٹس دیکھ میرے لئےوقت پیدا کر دی ہے۔میں نے کہا آپ ان محترمہ کو سمجھادیں۔فرمایا وہ سمجھے گی کیسے ؟ من ناقصات العقل والدین۔میں نے کہا پھر آپ نے انہیں اپنی پارٹی کارکن کیوں بنایا ہوا ہے ؟ بے ساختہ کہا میاں مشاور واهن و خالفوا هُن !۔نہ میں پہلی گول میز کانفرنس میں شرکت کیلئے حسین جہان سے میں سفر کر یہ ناتھ راجہ صاحب بھی اسی جہانہ سے سفر کر رہے تھے۔ایک روز مجھ سے دریافت فرمایا کہ تصوف کی با قرآن کریم کی کس آیت پر رکھی جاتی ہے۔میں نے کہا میں نے تصوف کا مطالعہ نہیں کیا اس لئے نقی کے ساتھ کچھ نہیں کہ سکتا لیکن میرا خیال ہے کہ جو آیات صوفیائے کرام کے مد نظر ہوں گی ان میں یہ آیت کریمہ اللہ نور السموت والارض والی ضرور ہو گی۔سن کر فرمایا یہ تو تصوف کا نچوڑ ہے۔لندن میں گول میز کانفرنس