تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 248 of 736

تحدیث نعمت — Page 248

۲۴ مسٹر جسٹس ہیرین | مسٹر جٹس پیرین ایک قابل اور نقطہ میں بھی تھے۔لیکن مزارع نازک تھا اور اس پر طرہ یہ کہ شراب کے استعمال میں عدا عتدال کو قائم نہ رکھ سکتے تھے۔جب مزاج برہم ہوتا تو قابو مں نہ رہنا۔چھوٹے سے چھوٹے وکیل سے لیکر سیر و کلا تک بشمول بخشی ٹیک چند صاحب ان کی بہر ہم مزاجی کا نشانہ بنے سے نہ بچ سکے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں شروع سے آختہ تک مستنے رہا۔اس کی ظاہری وجہ تو یہ تھی کہ وہ وکلاء بھی جنہیں اپنے کیس کے مطالعہ اور تیاری کا شوق ہوتا ہے جج کی طبیعت کے مطالعہ کی طرف توجہ نہیں کرتے مسٹر جٹس پریسین بعض باتوں سے بہت پڑھتے تھے۔مثلا اگر کوئی وکیل واقعات کے بیان کرنے میں غلطی کرے تو بہت برہم ہوتے تھے۔اگر کوئی بہت بڑھا کہ بات کیسے تو انہیں نا گوارہ ہوتا تھا۔اگر وہ کوئی سوال کریں تو ضروری تھا کہ مختصر سے مختصر الفاظ میں ان کے سوال کا جواب فوراً دیا جائے۔اور اگر کسی وضاحت کی ضرورت ہو تو وہ بعد میں الگ کی بجائے لمبی تقریر سے آشفتہ ہوتے تھے۔بات کی ہندہ کو بہت جلد پہنچے جاتے تھے اسلئے بھی تقریر کی ضرورت نہ ہوتی تھی تکرار پسند نہیں کرتے تھے۔ایک بار صفائی سے بات کر دینا کافی ہوتا تھا۔مجھے ان کی ذہانت اور انکی طبیعت کا اندازہ شروع شروع میں ہی ہوگیا تھا۔جس پرسین و عداری اپیل با نگرانی میں نا جائزہ کشید شراب کے معاملہ یں بہت نرمی کرتے تھے کہا کرتے تھے اس معاملہ میں قانون نا واجب طور پر سخت ہے۔جس شخص کے پاس روپیہ ہو اور غیر ملکی شراب کا شوق رکھتا ہو وہ اپنا ہہ خانہ فرش سے چھت تک تیر مکی شراب کے سکوں اور بوتلوں سے بھرے تو اس کے ساتھ قانون کوئی تعرض نہیں کرنا۔لیکن اگر کوئی دیہاتی اپنی عادت سے مجبور ہو کر ایک مکا ستی دیسی شراب کا کشید کرلے تو اسے جیل خانے جانا پڑتا ہے۔میں قانون کو بدلنے کا اختیار تو نہیں رکھتا لیکن سزا میں تخفیف کرنے کا مجھے اختیار ہے۔ایسے مقدمات میں اکثر خلیفہ حکومت رائے صاحب سائل کی طرف سے وکیل ہوتے اور مقدمہ یوں طے ہوتا۔مسٹر جسٹس پیرین۔مسٹر حکومت رائے یہ کیس تو بالکل صاف ہے۔ملزم کے مجرم میں شک کرنے کی گنجائش نظر نہیں آتی۔خلیفہ حکومت رائے۔بجا ہے جناب عالی لیکن سزا بہت سخت ہے۔سٹر جسٹس پرسن۔بیشک سزا میں سختی کی گئ ہے تین مہینے کی یا ان کے تقاضے کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے۔میں میں سر انجونیہ کرتا ہوں۔خلیفہ حکومت رائے وکیل خلیفہ حکومت رائے بھی اپنی مثال آپ تھے۔طبیعت رنگیلی تھی ماتھے کے علاقے کے جرائم پیشہ سب ان کے مرید تھے۔جرم کرتے ہی ان کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور سب کیفیت بیان کر کے استمداد کرتے دہ اپنی عقل دوڑاتے اور کوئی نہ کوئی رستہ مخلصی یا تخفیف تعزیر کا ڈھونڈ نکالتے۔ایک واقعہ خود مجھ سے بیان کرتے ہوئے کہا انسانی تحریر سے بچانے کی سعی تو ہم کر لیتے ہیں اور کئی دفعہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن خدا کی تعزیہ سے