تحدیث نعمت — Page 246
سرت دی لال فارسی جانتے تھے۔ایڈرس پیش کرنے والوں کو یہ توقع تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اس ستم ظریفی کو سمجھ نہ سکیں گے۔اس لئے غالب قیاس بھی تھا کہ ایڈرس پیش کرنے والے خود کسی کی ستم ظریفی کا شکار ہوئے ہیں۔کچھ دنوں بعد مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ نے اپنے مکان پر سر شادی لال کے اعزانہ میں رخصتی ڈنر دیا جس میں میں بھی مدعو تھا۔دنہ راء میں سے سر جگندر سنگھ مدعو تھے۔وکلاء میں سے مسٹر بھگت رام پوری اور میں۔باقی سب ہندوستانی بج صاحبان تھے۔مختصر سی پارٹی تھی۔جب ہم کھانے کے کمرے میں گئے تو دیکھا کہ دو تین کرسیوں کے پیچھے سفید رومال بندھے ہوئے ہیں۔کسی نے میزبان سے پو چھا کہ اس سے کیا مراد ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ملازموں کو واضح طور پر سمجھا تو دیا ہے کہ فلاں فلاں مہمان گوشت نہیں کھاتے لیکن پھر بھی غلطی کا استعمال رہتا ہے۔اسلئے ایسے مہمانوں کی کرسیوں کے پیچھے نشان کے طور پر سفید رومال باندھ دیئے ہیں۔اس پر سہ دار ہو گندر سنگھ نے بے ساختہ فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔ہمارے گورو جانے فرمایا ہے بعض لوگ جانور کا گوشت تو نہیں کھاتے لیکن انہیں انسان کا نعون سوسنے میں کوئی باک نہیں ہوتا۔ان کے یہ کہنے پر مجھے یاد آگیا کہ سر جو گندر سنگھ فارسی اچھی جانتے ہیں اور خواجہ حافظ کے کلام سے واقف ہیں۔سیب کھانا ختم ہوا تو مہا باہر با نیچے میں نکل آئے۔میں نے موقعہ پاکر علیحد گی میں سر جوگندر سنگھ سے کہا۔خالصہ جی اسکھ وکلاء نے جو ایڈریس سرشاری لال کو پیش کیا ہے اس میں خواجہ حافظ کا شعر کیسے جوڑ دیا گیا۔وہ ہنسے اور فرمایا وہ الو میرے پاس آئے تھے اور چاہتے تھے کہ میں ان کے ساتھ ایڈریس میں شامل ہوں۔میں نے کہا میرا تو کوئی تعلق نہیں اور میرا سرش وی نان نے کچھ سنوارا نہیں۔تمہیں اگر ان کی خو د منظور ہے تو جاؤ اور ایڈرس پیش کرتے پھرو۔انہوں نے جواب دیا ہماری تو کوئی ایسی نیت نہیں تھی۔لیکن چیف جسٹس صاحب نے خود خواہش ظاہر کی ہے کہ انہیں ہاری طرف سے ایڈریس دیا جائے۔آپ اگر شامل نہیں ہوتے تو ایڈریس تو لکھ دیں۔میں نے ایڈریس لکھنے سے بھی تو انکار کیا۔وہ لوگ پہلے گئے اور پھر ایڈریس لکھ کرنے آئے اور کہا، اسے دیکھ تو لیں اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہو اصلاح کر دیں۔میں نے انگریزی عبارت کی مناسب اصلاح کر دی اور درمیان میں حافظ کا شعر بھی لکھ دیا۔مریٹس ایڈین | مسٹر جسٹس ایڈین ہائی کورٹ کے حج مقرر ہونے سے عین پہلے 19ء میں انتخابا کیٹر میونل کے پریذیڈنٹ مقر ہوئے تھے۔پیراکبر علی صاحب وکیل فیروز پور کا میں بھی ٹرمینل کے سپرد تھا میں پیر صاحب کی طرف سے اس کیس میں وکیل تھا۔فریق مخالف کی طرف سے میاں عبدالرشید صاحب وکیل تھے۔پہلی پیشی کے دن پریڈ ٹڈنٹ صاحب نے فریقین کو ضابطے کے متعلق کچھ ہدایات دیں۔میں نے ایک امر کے متعلق وضاحت چاہی۔اس کی تعبیر میرے خلاف کی۔میں نے دوسرا سوال کیا۔پھر ویسے ہی کیا۔میں نے قیا