تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 245 of 736

تحدیث نعمت — Page 245

۲۴۵ انہیں رضا مند کیا کہ ان کی جگہ ان کے صاحبزادے کا فقرہ مطوبہ حج ہائی کورٹ ہو جائے۔اسی طرح سرجان نا کس بھی ستر سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد منشن لینے پہ آمادہ کئے جاسکے۔آئندہ کے لئے اس مشکل کا حل یہ تجوید کیا گیا کہ مستقل اسامی پر تقریر کے وقت جج صاحبان سے تحریری عہد سے لیا جاتا کہ وہ ساٹھ سال کی عمر نہتے پر پنشن لے لیں گے۔سرشاری لال کے تقریر کے وقت کوئی آپ افرایہ نامہ نہیں لیا گیا تھا۔اس لئے وہ اپنے آپ کو ساٹھ سال کی عمر ہو بھلانے پر ملازمت چھوڑ دینے کا پابند نہیں سمجھتے تھے سر پر بیٹ ایمرسن نے ان سے دریافت کیا کہ آپ اپنے جانشین کے متعلق کوئی مشورہ پیش کرنا چاہیں تو فرما دیں بسر شادی لال نے کمال سادگی سے کہہ دیا کہ جب وقت قریب آئے گا میں اپنی رائے کا اظہارہ کہ دوں گا۔اس سے گو یہ نہ صاحب بھانپ گئے کہ شادی لال ساٹھ سال کی عمر ہو نے پر میشن پر نہیں جائیں گے۔اتفاق سے پریوی کول میں ایک ہندوستانی جی کی جگہ خالی ہونے والی تھی۔سر پر بیٹ نے گورنر جنرل کی وساطت سے وزیر مہند کو رضا مند کیا کہ سر شادی لال کا تقریر پر لوی کونسل میں ہو جائے اور سر شادی لال کو یہ پیشکش کی یہ شادی لال نے غدیر کیا کہ ان کے لئے لندن کی رہائش تکلیف دہ ہوگی اور ان کی صحت بھی اجازت نہیں دیتی۔گورنہ صاحب نے کہا، بادشاہ سلامت کی پریوی کو غسل کا رکن ہونا بڑا اعزانہ ہے اور اس سے انکار مناسب نہیں۔صحت کا عذر تو بہر صورت مشکل پیدا کرے گا اگر آپ نے یہ عذر پیش کیا تو آپ کو چیف جسٹس کا عہدہ بھی چھوڑنا ہوگا غرض سرشادی لالی نے چار دنا پچانہ پہ بیوی کونسل میں جانا منظور کر لیا۔آخری دن وکلا سے رخصت کی تقریب میں جو تقریر آپ نے کی اس میں حکومت پر بھی کڑی تنقید کی۔آپ ٹائپ شدہ تقریر پڑھتے جاتے تھے اور سختی ٹیک چند صاحب رومال سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔جٹس سر شادی لال سے سر | آخری ایام میں آپ نے مختلف گروہوں سے الوداعی ایڈریس لینا ہو گندر سنگھ کی ستم ظریفی شہر دیے گئے۔ان دنوں بالو فضل الدین صاحب آپ کے ریڈر تھے۔انہوں نے ایک دن مجھے ایک ایڈریس کی چھپی ہوئی کاپی دکھلائی ہوسکھ وکلاء نے چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ایڈریس انگریزی میں تھا جس میں چیف جسٹس صاحب کی خوب مدح سرائی کی گئی تھی۔لکھا تھا کہ آپ نے ہمیشہ سب کو ایک نگاہ سے دیکھا اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا، ہر ایک کو اس کا مناسب حق دلوایا۔اور سب سے انصاف کیا۔انگریزی میں اس مدح سرائی کے بعد خواجہ حافظ شیرازی کا یہ شعر درج تھا عمرتان با درا سلام اے سافیان ببرم حجم گریچه سجام مانند پیر سے بد و در این شما ؟