تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 244 of 736

تحدیث نعمت — Page 244

کم کم ان کا تقریر ہوا۔اس کے بعد اگر عارضی تقریر جاری رہا تورہ جلد منتقل آسامی پہ نائنہ ہو جاتے لیکن سمر شادی لال کو شبہ تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے جو کبھی ان کی شکایت میں آوانہ اٹھتی ہے۔اس میں شیخ صاحب کا ضرور دخل ہے۔لہذا جب پھر ان کے تقریر کا سوال اٹھا تو اس بہانے انکار کر دیاکہ ان کا کام تسلی بخش نہیں رہا۔سید عبدالاری کا تقریر الہ آباد سے ہوا۔مسٹر حبس عبدالروف نہایت شریف طبع پابند و صنع خوش اخلاق بزرگ تھے۔میرے ساتھ تو بہت شفقت سے پیش آتے رہے۔ہر ایک ان کے حسن سلوک کا راج تھا۔لیکن انہیں ہر دم نہایت احتیاط سے اٹھانا پڑتا تھا۔سر شادی لال کی عینک کے شیشے تو بہت موٹے تھے لیکن نگہ بہت باریک اور دور مین تھی۔سید صاحب اپنا وقت نیک نامی سے گزارتے رہے۔ان کی میعاد ختم ہونے پر سر جٹس آغا حیدر کا کا تقریر سہارنپور سے ہوا وہ کچھ مہینوں کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ میں عارضی بھی رہ چکے تھے۔ان کی بڑی خوبی یہ تھی کہ سرشادی لال کو کبھی آشفتگی کا موقع نہیں دیتے تھے۔اس واحد مقصد میں اپنی میعاد کے آخر تک کامیا رہے۔ان کی جانشینی مرزا ظفر علی صاحب کو حاصل ہوئی۔ہو سب حجی اور سیشن مجھی کے مراحل طے کرنے کے بعد ڈائی کورٹ کی جی پر فائز ہوئے۔بہت متدین عابد وزاہد نیک نام بزرگ تھے۔سرشادی لال کے نام سے کانپتے تھے پہنچے کے اجلاس میں سینیٹ حج کی رائے سے اختلاف کرنا الحاد کے مترادف شمار کرتے تھے۔آخر میں پھر شیخ سرعبدالقادر کا تقریر ہوا۔لیکن اب میعاد اتنی میسر نہ تھی کہ منیشن کے مقدار ہو سکتے۔میاں عبدالرشید صاحب کے تقریر کے فرقت سر شادی لال کا راج اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا۔بیشیخ دین محمد صاحب کا نظریہ تو اس راج کے آخری دنوں میں ہوا۔الہ کے ابتداء میں سر پر برٹ ایمرسن پنجاب کے گورنہ تھے وہ اپنے آپکو بہت ہوشیار تصور کرتے تھے پسر شادی لال کے ہتھکنڈوں سے واقف تھے۔ہائی کورٹ کے سینیر پورہ میں جوں سے بھی کچھ تفصیل نہیں پہنچتی رہتی ہوں گی۔مسٹر ٹسٹس براڈوے تو اس معاملے میں غیر جانبدار شمار نہیں ہو سکتے تھے۔وہ بیرسٹر تھے اور لاہور چیف کورٹ میں برسوں پر مکیں کرتے رہے تھے۔جب ان کا نفرنہ جھی پر ہو گیا تو انہوں نے سلامتی اور دانش اس میں سمجھی کہ اگر مس شادی لال شیر بنا چاہوتی وہ گیر نا منظور کر لیں۔لیکن مسٹر جیٹس بریرین اور مسٹر جسٹس ایڈسین اس قماش کے نہیں تھے۔وہ انڈین سول سروس کے سینیٹر افسہ تھے۔خود داری اور خود اعتمادی کے حامل تھے۔سری شادی لال اور بخشی ٹیک چند کی چالاکیوں کو خوب سمجھتے تھے۔اور ان کے شاہد تھے۔سر شادی لال مئی کاء میں ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے والے تھے۔جب ان کا تقرر چیف کورٹ کی جی پر ہوا اس وقت اعلیٰ عدالتوں کے بچوں کے عرصہ ملازمت کی میعاد مقرر نہیں تھی۔الہ آباد ہائی کوٹ کے دور حج ستر سال سے زائد عمرتک جی کی کہ سی پر متمکن رہے۔سر پی سی بیر جی بہتر سال کے ہو گئے شنوائی میں فرق آگیا لیکن پیشن پر جانے کا ذکر سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔آخر چیف جسٹس سرگر موڈ میر ز نے اس طرح