تحدیث نعمت — Page 231
۲۳۱ • کون امید والہ ہو درست نہیں اور رائے دہندگان کو اپنی رائے کے اظہار کا موقعہ ملنا چاہیے۔وہ تسلیم کرتے تھے کہ انہیں کامیابی کی توقع نہیں وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ میرا انتخاب ہی مناسب ہو گا لیکن وہ قرعہ اندانہی کے طریق کو پسند نہ کرتے تھے۔اصولاً تو ان کا موقف درست تھا اور جب وہ انتخاب میں حصہ لینے پر مصر تھے تو انہیں بانہ رکھنے کا کوئی طریقیہ نہ تھا۔وقت آنے پر انہوں نے درخواست دیدی۔اسلئے انتخاب کی کالر والی لانہم ہو گئی اور ہمیں انتخاب کا بکھیڑا جھیلنا پڑا۔اس سے مجھے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ضلع سیالکوٹ کے سرکردہ زمیندارہ اصحاب کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات مضبوط ہو گئے۔انتخاب کی بھاگ دوڑ کے سلسلہ میں ایک لطیفے کا ذکر دلچسپی کا باعث ہوگا۔ماہرہ کلاں کے سفید پوش چودھری جہان خاں صاحب نے خواہش کی کہ میں ان کے ہمراہ ان کے گاڑی جب کہ وہاں کے رہئے مہندگان سے ملوں۔چنانچہ ایک شام میں اور بچودھری قاسم علی خان صاحب ذیلدا یہ ان کے ہمراہ ان کے گاؤں گئے اور ہر رات ان کے ہاں مہمان رہے۔دوسری صبح انہوں نے ذہیہ کے مالکان کو اپنے دیوان خاصے میں لیا لیا اور میرا ان سے تعارف کرایا اور میرے آنے کی غرض بیان کی اتنے میں ناشتہ آگیا۔میزبان نے فرمایا تمہارا وقت قیمتی ہے ناشتہ کر لیں گفتگو جاری رہے گی ناشتہ ختم ہوا تو ماکان دسہرہ میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے حاضرین سے کہا بھائیوں میں تو کہتا ہوں پر چھا (روٹ ، اسی پر دھری کو دینی سپاہیے حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ لائے تو ہماری بھی رہی ہے لیکن تمہارے مشورے کی کوئی خاص وجہ ہے اس نے کہا وجہ یہ ہے کہ ہم سب نہ بیدار ہیں اور جب ممیں سہیل خرید نا ہوتا ہے تو علاوہ اور باتوں کے ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بیل پھر نے (کھانے میں کیسا ہے سو بیل اچھی طرح پچہتا ہے وہ کلمہ رانی بھی خوب کرتا ہے۔میں اس چودھری کو کھاتے دیکھتا نہ تا ہوں یہ بچہ تا خوب ہے پہلے کا بھی نوب"۔اس پر ایک قہقہہ " بلند ہوا اور ہنستے ہنستے محفل بہ نفاست ہوئی۔چودھری اکبر علی صاحب صرف اتنا ، دعا کرتے تھے کہ ان کی ضمانت ضبط نہیں ہو گی۔انتخاب کا نتیجہ نکلا تو اس کے بر عکس ان کی تائید میں آراء کی اسقدر کمی لہ ہی کہ ان کا نہ سر ضمانت ضبط ہو گیا۔پنجاب کو نسل میں یونینسٹ پارٹی | میاں سر فضل حسین صاحب 9ء میں پنجاب کی حکومت میں وزیر مقررہ ہوئے تھے۔ء میں وہ ریونیو ممبر ہوئے۔اپنی وزارت کے زمانے میں انہوں نے چودھری لال چند صاحب کو اپنے ساتھ شامل کر کے یونینسٹ پارٹی قائم کی تھی۔چودھری لال چند صاحب کے انتخاب پر ذور داندی ہوئی اور ان کا انتخاب منسوخ ہوا۔ان کی جگہ چودھری چھوٹو رام صاحب منتخب ہو کر یونینسٹ پارٹی کے نائب لیڈر ہوئے۔یہ پارٹی اقتصادی اصولوں کی بنا پہ قائم کی گئی تھی۔اس کے اراکین