تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 196 of 736

تحدیث نعمت — Page 196

144 سے سب اکٹھے باہر آگئے۔تین روپے ابھی مولانا صاحب کے ہاتھ میں ہی تھے انہوں نے انہیں چھن کا یا اور مسکرا کر مجھے فرمایا مرزا صاحب سے ہمیں کچھ نہ کچھ حاصل ہوتا ہی رہتا ہے۔بحث ہوئی اور چند دن بعد سب بج صاحب نے فیصلہ سنایا۔پٹنہ نانی کورٹ کے فیصلے اور مدعا علیہ کی طرف سے ہو شہادت پیش ہوئی تھی اس پر حصر کرتے ہوئے رانہ دیا کہ مدعا علیہ کا نکاح فسخ نہیں ہوا اور دعوتی خارج کر دیا۔مدعیہ کی طرف سے اپیل دائمہ کی گئی جس کی سماعت گورداسپور میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ بیج امرتہ کی عدالت میں ہوئی۔خاک راس تاریخ پر حضرت خلیفة المسیح الثانی کی خدمت میں وزیر سند کی آمد کے موقعہ پر حاضر تھا اسلئے اپیل کی پیروی کے لئے گورداسپور حاضر نہ ہو سکا۔غالباً حضور کے ارشاد کے ماتحت میاں محمد شریف صاحب رسپانڈنٹ کی طرف سے پیش ہوئے اپیل میں عدالت ما تخت کا فیصلہ بحال رہا اور اپیل خارج ہو گئی۔سیالکوٹ شہر میں حضرت مولوی فیض الدین صاحبہ کے سلسلہ احمدیہ میں بیعت ہونے پر مخالفین نے مولوی صاحب جیسے نیک خصلت اور فرشتہ سیرت انسان پر ایک سراسر بے بنیا و عین کا الزام عاید کر کے فو بیداری استخانہ وانہ کر دیا۔حضرت مولوی صاحب کا خاندان پیشت در پشت سے اپنے علم و فضل کے باعث سیالکوٹ میں ممتا بینیت رکھنا تھا اور شہر کی دو بڑی مساجد کی تولیت مولوی صاحب کے سپرد تھی ان میں سے ایک مسجد تعرلب سڑک واقعہ تھی اور اس کے احاطہ میں ایک بزرگ کا مزار بھی تھا۔ساتھ کی گلی کے اندر ایک دور کان اس مسجد کے زیہ میں تھی۔دوسری مسجد گلی کے اندر سڑک سے کچھ فاصلے پر مولوی صاحب کے رہائشی مکان کے مقابل واقعہ تھی اس کی عمارت سڑک والی مسجد کی نسبت وسیع تر تھی۔اس کے احاطے میں بائیں جانب ایک قبرستان تھا اور یہ ہیں جانب ایک کھلی جگہ اور اس سے ہٹ کر دو تین پرانی طرز کی کوٹھڑیاں تھیں جن میں سے ایک میں ایک کو لہور چلا کرتا تھا۔مولوی صاحب خود اس مسجد میں امامت کرتے تھے۔یہیں میں ان کی خدمت میں قرآن کریم کے درس کے لئے حاضر ہو اکرتا تھا۔دونوں مساجد کا نام کبوتراں والی مسجد تھا۔سٹرک والی مسجد بیرونی کہلاتی تھی اور گلی والی اندرونی۔مولوی صاحب کے خلاف جو استغاثہ دائر کیا گیا اسکی بنیاد اس فرضی بیان پر رکھی گئی کہ بیرونی محمد کے سامان میں سے ایک سائبان اور کچھ اور اشیاء مولوی صاحب نے بین کرتی ہیں سارا شہر جاننا تھا کہ یہ بیان سراسر بے بنیاد ہے اور استغاثے سے غرض محض مولوی صاحب کی ایذا رسانی ہے۔آخر اس بات پر راضی نامہ ہوا کہ مولوی صاحب بیرونی مسجد کی تولیت سے دست بہ دائرہ ہو جائیں اور ملحقہ دوکان کے کرائے کی وصولی کا حق اور بیرونی مسجد کے نظم ونسق کی ذمہ داری مستغیشان کے مقرر کردہ متولی کے سپرد کر دیں اور اندرونی مسجد کی تولیت اور امامت بدستور مولوی صاحب کے سپرد ر ہے اور اندرونی مسجد میں جماعت احمدیہ کے ساتھ کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے۔چنانچہ اس کے مطابق عمل ہوتا رہا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے اندرونی مسجد کے کنویں پر 1