تحدیث نعمت — Page 174
۱۷۴ کس کا لکھا ہوا ہے۔حضور نے فرمایا میں نے اردو میں لکھا تھا اور رخاک ار کی طرف اشارہ کر کے فرمایا؟ اس نے انگریزی میں ترجمہ کیا وہ یہ مہند نے کہا ترجمہ بھی بہت اچھا تھا اور اگر بچہ سبط دستا ویزہ تھی اس نے پڑھی بھی بڑی عمدگی سے۔ایک گھنٹے کے قریب گفتگو رہی اور مختلف مسائل پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔وزیہ ہند جو کچھ کہتے رہے اس کے ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ حضور انگریزی خوب سمجھتے تھے لیکن چونکہ حضور خود اردو میں اظہار خیال فرماتے تھے۔حضورہ کے ارشادات کا نتہ جمعہ خاک در کر دیا تھا۔خاک رہ حضورہ سے اجازت لیکر اسی رات رتی سے رخصت ہو گیا۔وائسرائے کے ساتھ حضور کی طاقات دوسرے دن تھی۔اس موقعہ پر تہ جمانی کے فرائض صاحبزادہ مرنہ البشیر احمد صاحب نے ادا کئے۔حکومت پنجاب کی طرف سے عالمی جنگ کے دوران میں رائے عامہ کی تائید حاصل کرنے اور پیسٹی کمیٹی کا قیام جنگی سرگرمیوں میں تعاون کی روح کو مضبوط کرنے کیلئے حکومت نے ایک پالیسی کمیٹی قائم کی اور جماعت احمدیہ کو بھی دعوت دی کہ وہ اپنا نمائیندہ اس کمیٹی پر نامزد کیے حضرت خلیفہ المسیح اللہ ہی نے خاک لہ کو نامزد کیا۔کمیٹی کا افتتاحی اجلاس شملہ میں حکومت پنجاب کے مرکزی درفاتنہ انگیزیر لی " میں ہوا۔میں اجلاس میں شامل ہونے کیلئے شملہ گیا۔اس سے پہلے مجھے ایک بار شملہ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ان د نومی حضرت خلیفہ المسیح الثانی شملہ میں تشریف فرما تھے اور خاکسار کو طلب فرمایا تھا۔خاک رسید انعام اللہث و صاحب کی رفاقت میں حاضر ہوا تھا اور ہفتہ عشرہ خدمت اقدس میں گزارنے کی بے بہا نعمت سے مشرف ہوا تھا۔حضورہ اور حضورہ کے رفقاء اور خدام نواب محمد علی خاں صاحب کے مہمان تھے۔ان ایام میں بھی جب کوئی ایسے صاحب حضورہ کی طلاقات کے لئے تشریف لاتے۔جن کے لیئے انگریزی میں بات چیت کر نا موجب سہولت ہوتا تو خاک کو تہ جمانی کا ارشاد ہوتا۔ایک موقعہ پر حضور نے فرمایا۔اس کی ترجمانی نہیں مجھے یہ اطمینان رہ بنتا ہے کہ یہ میری بات اچھی طرح سمجھ لیتا ہے اور پھر وضاحت سے سمجھا دیتا ہے۔حضورہ کا اظہا خاکار کے لئے بہت بہمت افزائی کا موجب ہوا۔کیونکہ تہ جمانی یوں بھی آسان نہیں ہوتی اور حضور کی ترجمانی میں ایک تو ذمہ داری کا احساس شدید ہوتا۔دوسرے حضور پسند فرماتے تھے کہ مسئلہ نہ یہ بحث کے ایک پہلو پر حضور اپنا ایا د مکل فرما لیں تو ترجمہ کیا جائے جس سے لازم آتا تھا کہ نہ صرف حضور کے ارشادات کا مفہوم پوری طرح زمین میں آجائے۔بلکہ حضور کے استدلال کی ترتیب بھی ذہن میں محفوظ رہے تیرے حضور خود انگریزی خوب سمجھتے تھے اور ترجمہ کے دوران میں ترجمان کو یہ احساس رہتا تھا کہ اگر کہیں ہم کی ادائیگی میں تفاوت ہوا تو حضورہ فوراً فرما دیں گے میرا یہ مطلب نہیں۔خوشنودی