تحدیث نعمت — Page 173
نہیں۔گو دل میں یہ بھی سمجھے ہوں گے کہ سستے چھوٹے۔چند دن بعد چار و نا چارہ گر ندان میں بسیرا کر لیا سیڑھیوں سے دوسری طرف سید النعام اللہ شاہ صاحب کا کمرہ تھا۔اس سے انہیں کچھ ڈھارس تھی۔اسمی سال چودھری بشیر احمد صاحب میٹر کو لیشن کے امتحان میں کامیاب ہو گئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔یوں تو انہوں نے ہوسٹل میں بھی کمرے لیالیکن بالعموم ہر شام گھر آتے اور ہفتے میں تین چار یوم گھر پر ہی ٹھہر جاتے۔ادھر چودھری شمشاد علی خان صاحب ایم ایس سی (کیمیا ) میں کامیاب ہو گئے اور انہیں محکمہ آب و ہوا کے سائنس کے صیغے میں علاقہ مت مل گئی اور وہ اس سلسلے میں آگرہ تشریف لے گئے۔تھوڑا عرصہ بعد سہ مائیکل اوڈو ایہ گونی پنجاب نے اپنے صوبے سے ایک ڈبل کمپنی اسگنلنہ ، بھرتی کرنے کا اعان کیا اور چودھری شمشاد علی خاں صاحب اس میں بھرتی ہو کہ عراق چلے گئے۔آخر جون شاشہ میں چودھری شہاب الدین صاحب نے حکم صادر کیا کہ یکم جولائی سے میرے مشاہرے میں پچاس روپے اضافہ ہو گا۔مجھے انڈین کینز میں کام کرتے ابھی دس ماہ ہی ہوئے تھے کہ میرے مشاہرے میں درس سالانہ ترقیوں کے بعد ابرا فسانہ ہو گیا۔رہائشی مکان اور اس کے بجلی پانی کا خرچ مستزاد تھا۔فالحمد للہ۔اس کے بعد میں نہ رفتار بھاری یہ ہی اور یکم جنوری شاہ سے میرا مشاہرہ دگنا ہو گیا آئینی اصلاحات کے سلسلہ میں بیس اگست شیر کو دور یہ من مسٹر مانگو نے پارلیمنٹ میں مسٹر مائیگو وزیر سند کا سفر سندوستان | اعلان کیا کہ ملک معظم کی حکومت کا مقصد ہندوستان کو نوآبادیا کے پورے درجے تک پہنچانا ہے۔اس مقصد کے لئے وزیر مہند نے ہندوستان تشریف لاکر وائسرائے لارڈ چیلنمس فورڈ کی شمولیت میں رائے عامہ کا رجحان معلوم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ان کی تشریف آوری پر دہلی میں مختلف انجمنوں، پارٹیوں اور مجالس کے نمائندگان ان کی اور وائٹس رائے کی خدمت میں پیش ہوئے اور ہندوستان کی آئینی تنہتی کے متعلق اظہار رائے کیا اور تجاو نیہ اور منصوبے پیش کئے۔یہ جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی ایک وفد پیش ہوا اور اپنا ایڈرس پیش کیا۔حضرت خلیفہ المسبحان بھی اس موقعہ پر دلی تشریف لے گئے۔اور وزیر مند اور وائسرائے کے ساتھ علیحدہ ملاقات کی۔اور تباہ خیالات کیا۔وزیر ہند کے ساتھ ملاقات کے دوران میں تہ جمانی کے فرائض ادا کرنے کی سعادت حضورہ کے ارشاد کے ماتحت خاک بہ کو حاصل ہوئی۔وزیر مہند نے بہت تپاک اور احترام سے حضورہ کا خیر مقدم کیا اور کہا آپ کی جماعت کی طرف سے جو ایڈرس آج پڑھا گیادہ نہایت مفید سجادیہ پرمشتمل تھا۔چار پانچ نکات کو تو میں نے خاص طور پر نوٹ کیا ہے۔اور میں اپنی رپورٹ میں ان سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ان نکات کا وزیر سند نے مختصر ذکر بھی کیا اور دریافت کیا یہ ایڈریس