تحدیث نعمت — Page 172
147۔متعلق کچھ بھی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے۔چند دن بعد مجھ سے کہا میں اس سال امتحان میں نہ بیٹھوں تو ٹھیک رہے گا۔میں نے بڑے زور سے احتجاج کیا کہ عشاء میں ہم نے میری کوتین کا امتحان اکٹھے پاس کیا تھا۔اس کے بعد چار سال تو آپ کے بماندی کی دستہ سے ضائع ہو گئے۔بی اے کے امتحان سے چند ماہ پیشتر آپ کے والد ما بعد کا انتقال ہو گیا۔بی اے میں اللہ تعالٰی نے کامیابی عطا فرمائی تو آپ نے ایم اے کی ٹھان لی۔ان دو سالوں میں جو کچھ تھوڑا بہت پس اندوختنہ آپ کے والد مرسوم چھوڑ گئے تھے اس کا اکثر حصہ آپ نے دوست نوازی میں صرف کر دیا۔اب ایم اے کے امتحان سے آپ فقط اسلئے جی چراتے ہیں کہ نہ ندگی کی ذمہ دارہ یہاں ایک سال اور التوا میں پڑ جائیں اور 15 THE S کے معاملے کو بہانہ بنانا چاہتے ہیں۔میں کہتا گیا وہ ہنستے رہے۔میں نے خیال کیا مجھے چھیر کر لطف اٹھا رہے ہیں۔ورنہ یہ ان کے ذہن میں کیسے آسکتا ہے کہ THE SIS میں اعلیٰ کامیابی کی وجہ سے امتحان میں نہیں بیٹھنا چاہیئے۔بات آئی گئی ہو گئی۔امتحان قریب آگیا۔میں مطمئن تھا کہ انہوں نے پھر التوا کا ذکر نہیں کیا تیاری میں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضرور کامیاب ہوں گے۔"۔۔امتحان کے پہلے دن عین پہنچے کے وقت میرے پاس تشریف لائے اور فاتحانہ اندانہ میں فرمایا۔دیکھ لو امتحان ہو رہا ہے اور میں تمہارے پاس بیٹھا ہوں اب تور باور کرو گے کہ میں امتحان میں نہیں بیٹھا۔جو میں چاہتا تھا میں کر گزرا۔اب جو تم چاہتے ہو تم کر لو۔میں بہت سٹ پٹا یا میری پریشانی اور بے لسبی پر وہ بے اختیار ہنستے رہے۔سید العام اللہ شاہ صاحب بھی آگئے۔وہ اپنی ہنسی روکنے کی کوشش میں تھے لیکن ان کے چہرے کی کیفیت سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس سازش میں شریک تھے کہ سید افضل علی صاحب امتحان میں شریک نہ ہوں۔آخر میں نے کہا پچاس روپے فیس داخلہ بھی ضائع کی کہنے لگے نہیں نہیں وہ بچ گئے۔اگلے سال کام آئیں گے۔میں نے پوچھا وہ کیسے ؟ کہا میں نے ڈاکٹری سرٹیفکیٹ داخل کر دیا تھا کہ مجھے اختلاج قلب کی تکلیف ہے میں امسال امتحان میں شریک نہیں ہو سکتا۔سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی تفصیل ایسے مزاحیہ طور پر بیان کی کہ میں بھی سہنس پڑا۔آمنہ کہا اب امتحان تو آئیندہ سال ہی دینا ہو گا میری تقصیر کی تعزیر کیا تجویز ہوئی ہے میں نے کہا آپ کی تعزیہ ایک سال قید با مشقت۔آپ یوٹنگ ہال کا عشرت کدہ چھوڑ کر میرے ہاں درمیانی منزل کے بغل والے کمرے میں قیام فرمائیے۔خوان یعنی نان کباب یک قلم ترک کر کے غریب خانے کی دعوت شیراز یہ قانع ہو جائیے۔آئینڈ سال کے امتحان کی تیاری ابھی سے پھر شروع کر دیجیئے۔امتحان میں کامیابی اس قید خانے سے رہائی کا پیغام ہو گی۔انہوں نے ناک بھوں چڑھائے حسرت کی آہیں کھینچیں۔مذاق میں ٹالنے کی کوشش کی آخرہ سمجھ گئے کہ جائے مغفر