تحدیث نعمت — Page 171
121 را فضل علی صاحب کا ایم اے کے سید افضل علی صاحب نے ایم کے امتحان کے لئے بیرم نان امتحان کے لئے بیرم خان پر THESIS پیر THESIS لکھنا تھا۔انہوں نے بیڑی کا رش سے مواد جمع کیا مستودہ تیار کر کے مجھے پڑھنے کیلئے دیا۔میں بیرم خان کے متعلق صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ ہمایوں کے وزیر تھے۔ان کے ساتھ ہی ہندوستان سے نکل کر ایران گئے۔ان کی وساطت اور تذبہ کا ہی کا نہ نامہ تھا کہ شاہ طہماسپ صفوی ہمایوں کے لئے فوج مہیا کرنے پر رضامند ہو گئے۔ہمایوں کی وفات پہ بیرم خان اکبر کے وزیر بھی ہوئے اور انا لیق بھی اور اکبر کے عہد کے ابتدائی سالوں میں بڑی دانشمندی سے تو عمران شہنشاہ کی رہنمائی کرتے رہے۔سید افضل علی صاحب کے مستودے سے میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔بیرم خان کی شاعری کا باب تو میرے لئے بالکل نیا علم تھا۔میں نے سید افضل علی صاحب سے کہا کہ ان کا نتیارہ کردہ مسودہ نہ صرف تاریخی لحاظ سے بلکہ ادبی لحاظ سے بھی نہایت قابل قدر ہے۔لیکن موجودہ صورت میں کسی قدر اصلاح کا محتاج ہے۔اگر وہ پسند کریں تو ہم دونوں اکٹھے بیٹھ کر ہر رونہ گھنٹہ بھر مسودے کی اصلاحی نظر ثانی پر صرف کریں۔دو ہفتے میں اصلاح شدہ مستودہ ممتحن صاحب کی خدمت میں بھیجنے کیلئے تیار ہو جائے گا۔دہ رضامند ہو گئے اور ہم دونوں نے یہ وقت مستودے کی ترتیب میں مناسب تبدیلی کرنے اور نہ بان چیست کرنے میں صرف کیا ممتحن پرو فیسر جادو نا تھ سرکار تھے۔امتحان سے چند ہفتے قبل سید افضل علی صاحب نے بتایا کہ انہیں اپنے پروفیسر صاحب سے معلوم ہوا ہے کہ پروفیسر مجادو نا نتھ سرکار نے ان کے مضمون کی بہت تعریف کی ہے اور اسے اول نمبر یہ پرکھا ہے۔میں نے مبارک باد دی لیکن وہ کچھ تفکر تھے کہ میرے لئے مشکل پیدا ہو گئی ہے۔تم نے زبان کی اتنی اصلاح کر دی اور اسے الیا چیست کرد یا که پر و فیسر جادو ناتھ سرکار جیسے تاریخ دان بھی متائثر ہوئے۔اب سجد میں امتحان میں بیٹھوں گا اور میرے پہ چھے میری پھیکی زبان میں ہوں گے جو میرے مضمون کے اصل مستودے کی نہ بان تھی تو ممکن ہے کسی ممتحن کو شک گزرے کہ THE SIS اس شخص کا تیا رہ کر وہ نہیں جو امتحان میں بیٹھا ہے۔اور میں گرفت میں آجاؤں۔میں نے سمجھایا کہ THE SIS پر ساری محنت تو آپ نے کی تھی۔میں نے تو کہیں کہیں آپ ہی کے الفاظ کی ترتیب بدل کر زبان میں کچھ چینی پیدا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔سارے مضمون میں ایک پورا جملہ بھی تو میرا و صنع کردہ نہیں۔آپ خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں۔جس شخص نے اپنی لگاتار محنت اور کوشش کے نتیجے میں بیرم خان کے اصل مقام کو بجو اسے تاریخ ہند میں اور ادبیات ہند میں ملنا چاہیے واضع کر دیا ہے اسے امتحان کے **