تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 164 of 736

تحدیث نعمت — Page 164

کم ۱۶ میں ایسے گستاخانہ اور خلاف ادب کلمات کہنے کا مجرم ہو۔جس کا انگریزی تر جمہ میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔اس پر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں میں سے بعض فقروں کا انگریزی نہ جمہ پڑھ کر سنایا۔عین سے جوں کی طبائع میں ہوش پیدا ہونا لازم تھا۔ان کے چہروں سے تھی ایسا مترشح ہوتا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں ان کی طبائع پر یہ اثرہ بھی ہوا ہو گاکہ و وکیل جھوں کی طبیعت میں جوش پیدا کر کے کام نکالا چاہتا ہے وہ دلائل سے تہی دست ہے۔جواب الجواب میں میرے لئے منظہر الحق صاحب کے تمام دلائل کا جواب ضروری تھا۔بعض کے متعلق تو جج صاحبان میں کہہ دیتے کہ ان کے جواب کی ضرورت نہیں۔باقیوں کے متعلق ان کا اطمینان کرنا میرے لئے بفضل اللہ کچھ شکل ثابت نہ ہوا۔البتہ حضرت مسیح کی مفروضہ اہانت کے الزام کی تردید میں مجھے کچھ وقت صرف کرنا پڑا۔میں نے عرض کیا مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میرے فاضل سیست نے ایک ایسی مغالطہ میں ڈالنے والی دلیل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے جو دراصل بے بنیاد ہے۔انہیں یہ بھی مد نظر یہ کھنا چاہیے تھا کہ یہ دلیل فاضل ججان کی طبعیت پر ناگوار گزرے گی۔اس لئے انہیں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ان کے لئے واجب تھا کہ ان تخریبات کا حسین میں سے بعض فقروں کا ترجمہ انہوں نے پڑھ کر سنایا ہے پس منظر اور سیاق و سباتی خوب اچھی طرح سمجھ لیتے اور اگر اپنے فرائض کی سرانجام دہی میں وہ پھر بھی ان تحریر وں کے کسی حصے کا پڑھ کر سنانا اگریہ سمجھتے تو ساتھ ہی ان کا سیاق وسباق بھی پڑھ کرسنا دیتے۔یا ان کا خلاصہ بیان فرما دیتے تاکہ سی غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہتی۔اگر وہ ایسا کرتے تو کوئی الجھن پیدا نہ ہوتی اور مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہ رستی، لیکن انہوں نے ایسانہ کیا اسکے مجھے یہ وضاحت کرنے کے لئے چند منٹ آپ کی توجہ طلب کرنا ہوگی۔میرے فاصل دوست کی مفروضہ دلیل کا ایک تو اصولی اور بنیادی زرد ہے اور وہ یہ ہے کہ جماعت احمد صدق دل سے یہ ایمان رکھتی ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ اللہ تعالی کا کلام ہے۔قرآن کریم حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر ایک سچے نبی اور رسول ہونے کے لحاظ سے نہایت احترام سے کرتا ہے بلکہ ان کی والد کا ذکر بھی احترام سے کرتا ہے۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ جو عاشیق قرآن اور خادم قرآن کھتے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کا پورا احترام نہ کرتے۔آپ نے بارہ بارہ فرمایا ہے کہ ہم سیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا سچا اور برگزیدہ رسول مانتے ہیں۔اور آپ کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔یعنی یہ کہ آپ حضرت میسج کے روحانی مشیل ہیں۔جیسے یونانی (حضرت بھی) ایلیا نی کے مثیل تھے۔یہ کیسے کن ہے کہ حبس صادق نبی کے آپ مثیل میں اس کی شان میں کوئی کلمہ گستاخی کا یا سوئے ادب کا کہتے۔" "