تحدیث نعمت — Page 128
۱۲۸ نے قرار دیا کہ ہر چند کہ متوفی سید تھے لیکن ان کا خاندان پشتوں سے اکو مہار میں کب ہوا ہے۔اور زراعت پیشہ ہے۔اور وراثت وغیرہ کے معاملات میں ہر موقعہ پر رواج کا پابند رہا ہے اسلئے متونی بھی رواج کے پابند تھے۔اور اپنے نواسے کو متبنی بنانے کے مجانہ تھے۔مدعیان نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس کی سماعت بھی مسٹر بارہ کرنے کی۔والد صاحہ نے اپیل کی پیروی میرے سپرد کی۔مقدمہ کی تیاری کے دوران میں مجھے خیال ہوا کہ اس کیس کے واقعات کے تحت شرع محمدی کے مطابق بھی غالباً متوفی کے تمہ کے کا کثیر حصہ مدعا علیہ کو ہی پہنچتا ہے۔چنانچہ میں نے کچھ وقت صرف کر کے شروع محمدی کے مطابق حصہ کشی کی تو معلوم ہوا کہ شرع محمدی کے مطابق بھی مدعیان صرف ایک نہایت تخفیف حصہ بجائداد کے مقدایہ ہوتے ہیں اور بقیہ تمام جائداد کا حقدار یا مدعا علیہ خود ہے یا اس کے وہ قریبی رشتہ دار ہیں جو اسکی بہنیت کے موئید ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہی اپنے نانا کا وارث ہو۔اس نتیجہ پر پہنے کیلئے مجھے ایک لمبا حساب کا سوال حل کرنا پڑا لیکن میں نے یہ تمام تفصیل نوٹ کر لی۔جب اپیل کی سماعت شروع ہوئی اور چودھری محمد امین صاحب امرزید تنازعہ کو بیان کر چکے کہ متوفی مشروع محمدی کے پابند تھے رواج کے پابند نہیں تھے تو میں نے کہدیا کہ میں یہ تسلیم کرنے کو تیار ہوں کہ شریع محمدی کے مطابق مدعیان کا تو حصہ وراثت میں بنتا ہے وہ انہیں دیدیا جائے۔پچودھری محمد امین صاحب کچھ حیران ہوئے کہ میں نے بحث کے بغیر سی ان کا موقف تسلیم کر لیا ہے۔مسٹر بار کرنے ان سے کہا اب آپ مجھے لکھا دیں کہ مدعیان شرع محمدی کے مطابق کس قدر کے حقدار ہیں۔چودھری صاحب نے چونکہ تفصیلی حصہ کشی نہیں کی ہوئی تھی انہیں اس میں کچھ مشکل پیش آئی۔مسٹربار کرنے مجھ سے پوچھا تم نے یہ تمام قضیہ حل کیا ہے ؟ میرے اثباتی تجواب یہ کہا پھر تم مجھے لکھا دو۔چنانچہ میں انہیں لکھواتا گیا اور چودھری صاحب ساتھ ساتھ پڑتال کرتے گئے۔جب حصہ کشی کا سلسلہ آخر کو پنچا تو مٹر بار کہے نے پینسل ہاتھ سے رکھ کر کہا میراتو ریکہ اگیا ہے اور مدعیان کا حصہ اتنا کم نکلا ہے ؟" مشروع محمدی کا اطلاق تسلیم کر لینے سے میری فرض یہ تھی کہ مقدمہ بازی کا سلسلہ ختم ہواور رضامندی سے تصفیہ ہو جائے۔اگر چہ وکالت میرا پیشہ رہا ہے لیکن مجھے مقدمہ باندی سے ہمیشہ نفرت رہی ہے۔عرصہ ہوا میں ابھی یہ مکٹس کرتا تھا کہ جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسے میں میری تقریر اصلاح معاشرہ پر ہوئی۔اس میں میں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ہمارے ملک میں دیہاتی طبقہ ** خصوصیت سے مقدمہ بازی کے مرض میں مبتلا ہے۔اس سے حتی الوسع بچنا چاہئے۔میری تقریر کے 1