تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 117 of 736

تحدیث نعمت — Page 117

114 احتي سجلات لك روحی و جنانی رسجدے میں میں تیرے حضور میری روح اور میرا دل اور باد بار با نداشتی چلی جاتی۔دانہ زید کا اپنے ننھال کا سفر | ماموں صاحب کی طرف سے اصرار تھا کہ میں عہد ان کی خدمت میں دانہ نہید کا حاضر ہوں مجھے بھی اپنے نانا جان ، نانی صاحبہ اور دیگر برسد گان اور عز بیان سے ملنے کا اشتیاق تھا۔سیالکوٹ سے دانہ نہید کا کا فاصلہ تو صرف با تمہیں میں تھا لیکن سفر یا مشکل تھا بس اللو سے پسرور تک تو سڑک تھی لیکن کچی۔وہاں تک اکے پلتے تھے سیالکوٹ میں اڈہ پر واریاں ایک معروف مقام شیبہ جالیاں کے پاس تھا۔وہاں سے اکے کر دانہ ہوتے۔نصف فاصلے پر میڈیا نے کے مقام پر اکے گھوڑے کو بہاری دینے ٹھہرتے اور مسافر چند منٹ سستا لیتے۔اکے میں بیٹھنے کی ترکیب بنہایت تکلیف دہ تھی۔اور کبھی سڑک پر تو چند میل بھی آگئے میں سفر کرنا شدید عقوبت کا باعث ہوتا تھا۔پختہ سڑکوں رٹم ٹمی ٹانگہ میسر آجاتا تھا۔لیکن کچی سڑک پر عموماً اگتے ہی چلتے تھے۔کہا جاتا تھا کہ اسکے کی ساخت اگر چہ مسافروں کیلئے بہت تکلیف کا موجب تھی لیکن گھوڑے کیلئے آسانی رہتی تھی۔میرے انگلستان سے واپس آنے تک پسر در تک سڑک پختہ ہو چکی تھی۔پسرور سے دانہ نہ یاد کا کے پہلے تین میل تو سٹرک تھی لیکن باقی حصہ دومیانی راستہ تھا۔جہاں اگہ بھی نہیں چل سکتا تھا۔اسلئے پر دور سے ہی گھوڑے کا انتظام ہوتا تھا۔دانہ نہید کا اسے گھوڑا بھیج دیا جاتا اور پر در پہنچتے ہی اکے سے اتر کر گھوڑے کے سفر شروع ہو جاتا۔اس طرح اس میں بائیں میل کے سفر میں دن کا اکثر حصہ صرف ہو جاتا۔بارہ میں اسے میں جکڑے ہوئے اور دس میل گھوڑے کی پیٹھ یہ ایک ایسے شخص کیلئے ہو تین سال کا عرصہ ایک ایسے ملک میں گزارہ چکا تھا جہاں سفر کیلئے ہر سہولت میسر تھی ایک مہم تھی لیکن میری عمر اور شوق کے مقابلے میں یہ صعوبت کوئی وقعت نہیں رکھتی تھی۔پس در تک سڑک پختہ ہو جانے سے کچھ فرق تو پڑ گیا تھا لکین باقی حصہ سفر کی وہی حالت تھی۔چودھری بشیر احمد صاحب | پچودھری بشیر احمد صاحب کی عمر اس وقت پچودہ سال تھی میرے انگلستان جانے کے وقت وہ قادیان تعلیم الاسلام ہائی سکول میں پڑھا کرتے تھے۔ہتھوڑا عرصہ قبل ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا تھا۔اللہ تعالی نے اپنے فضل سے چھوٹی عمر مں ہی انہیں غیر معمولی رشدہ اور ذہانت عطا فرمائے تھے۔والدہ کے انتقال پر انہوں نے اپنے والد صاحب کی خدمت میں تعزیت نامہ لکھا اور انہیں صبر جمیل کی تلقین کی لاء کی تعطیلات شروع ہونے پر جب کول بند ہوا تو قادیان سے اپنے گاؤں جانے کیلئے وہ سیالکوٹ آئے اور ایک رات ہمارے ہاں ٹھرے میری والدہ صاحبہ