تحدیث نعمت — Page 95
90 کی تواضع کرتے ہو اور اس تواضح کی کوئی قیمت نہیں لیتے تم یہاں میرے ہاں مقیم ہو۔تمہاسے مہمان میرے بھی مہمان ہیں میں ان کی مہمان نواندی کی قیمت کیوں لوں۔میں نے فرق بنانے کی کوشش کی اور مرار بھی کیا لیکن وہ نہ مانیں۔میں جب لنکنز ان میں کھانا کھانے جانا یا کسی دوست کے ہاں دعوت پر جاتا تو واپسی پر کھانے کے کمرے میں پورا ٹھنڈا کھانا بھنا ہوا پاتا۔مجھے تنہا نہ ہوتی اسلئے وہ کھانا ویسے ہی پیٹا رہتا۔دوسری صبح مستر می رنجیدہ نظر آئیں۔دریافت کرنے پر جواب ملتا تمہیں میرا کھانا پسند نہیں میں کہتا آپکو یہ وہم کیوں ہوا یہ فرمائیں رات جو کچھ مں نے میز پر رکھ دیا تھا اس میں سے کسی چیز کو بھی تم نے پسند نہیں کیا۔میں بہتر کہتا۔میں کھا کھانے کی تو باہر گیا تھا۔مزید کھانے کی ضرورت نہ تھی۔نہ میری عادت ہے لیکن ان کا شکوہ قائم یہ بتا کہتیں تم لوگ اپنے وطنوں سے دور غیر ملک میں رہتے ہو تمہاری مائیں ضرور پریشان ہوں گی کہ انکے بیٹوں کو پورا کھانا بھی ملتا ہے یا نہیں۔میں ان کے ہاں بہت آرام سے تھا اور وہیں سے سویڈن اور فنلینڈ کے سفر پر گیا تھا۔اور وہیں واپس لوٹا۔چودھری فتح محمد صاب سیال | سفر سے واپس آنے پر معلوم ہوا کہ محترم چودھری فتح محمد سیال کی انگلستان تشریف آوری | صاحب دو کنگ پہنچ چکے ہیں۔میں ان سے ملا تو انہیں بہت ملول پایا۔ایک تو انہیں آشوب چشم کی تکلیف تھی دوسرے کھانے کا انتظام خاطر خواہ نہ تھا۔اور سانول بھی موافق نہیں تھا۔حقیقت یہ تھی کہ خواحد کمال الدین صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی عادت میں یہ تو لکھدیا کہ وہ کام کرتے کرتے نڈھال ہو جاتے ہیں۔اور یہ ہو گا بھی درست لیکن ایسا لکھنے سے ان کی غرض یہ نہیں تھی کہ حضور ان کیلئے کوئی مدد گار بھیج دیں اور مدد گار کبھی چودھری فتح ہے سیال صاحب مجیب مخلص خادم سلسلہ انہیں اگر ضرورت تھی تو ایسے معاون کی تھی جو ان کا مخلص خادم ہو۔بچنا نچہ انہوں نے لاہور سے اپنے منشی صاب شیخ نور احمد صاحب کو بلوالیا تھا جو بہت نیک سیرت بزرگ تھے۔اور گو انگریزی کی مہارت نہیں رکھتے تھے۔لیکن خواجہ صاحب کی ذاتی خدمت شوق سے ادا فرماتے تھے اور ان کے لئے بہت سہولت کا موجب تھے۔ضعیف ہونے کی وجہ سے وہ دودھ ڈبل روٹی پر گزارہ کر لیتے تھے۔جو لباس وہ اپنے ساتھ لائے تھے وہی انہیں کفایت کرتا رنا۔چونکہ انہیں کہیں ملاقات وغیرہ کے لئے جانا نہیں ہوتا تھا۔اس لئے انگریزی لباس کی انہیں ضرورت نہیں تھی۔اور وہ یورپین لباس اور وضع قطع سے مانوس بھی نہیں تھے۔چودھری فتح محمد صاحت سے راجہ جاب کو توقع تھی کہ وہ شیخ نور احمد صابے نام کے طور پہ کام کریں گے اور انہی کی طرح بود و باش رکھیں گے۔یہ صورت ہو دھری صاحب کو بہت ناگوارہ تھی۔لیکن اس کی اصلاح کا بھی