تذکرہ — Page 789
غلام احمد کو کہہ دو کہ لڑکے جب مسجد میں آتے ہیں تو شور ڈالتے ہیں اور باتوں سے بھی کھڑاک کرتے ہیں ہم کو تکلیف ہوتی ہے۔ان کو منع کردے کہ وہ آرام سے گذارہ کریں۔مَیں نے حضرت صاحب ؑ سے ایسا ہی جاکر عرض کردیا تو حضور ؑ نے فرمایا کہ۔’’یہ مکان تو ہمارے قبضہ میں آنے والا ہے۔خدا نے ہم کو اِس مکان کا وعدہ فرمایا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۳۸ نمبر ۹مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۳۵ء صفحہ ۴) ۵۴۔حکیم محمد قاسم صاحبؓ ساکن لالہ موسیٰ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ’’ مجھے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ۔’’یہ زمین تیری اور تیرے مریدوں کی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۳۸ نمبر ۲۵مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۴) ۵۵۔ماسٹر اللہ دِتّا صاحبؓ مہاجر قادیان نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ایک دفعہ مفتی۱؎صاحب کو فرمایا کہ۔’’مَیں نے دیکھا ہے کہ منظور۲؎ کی طرف چیل جھپٹی ہے۔آپ ایک مسکین کو کھانا کھلایا کریں۔حضرت مفتی صاحب سلّمہ اللہ نے عرض کی کہ حضور مقرر کردیا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۳۸ نمبر ۲۵مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۰) ۵۶۔حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓ نے ذکر ِ حبیب ؑ کی ایک مجلس میں فرمایا کہ ’’میرے چچا صاحب … کو حُقّہ کی بہت عادت تھی۔انہوں نے سنایا کہ مَیں قادیان گیا تو ہم دو آدمی بقیہ حاشیہ۔نہ سفیدی ہوئی تھی اور فرش بھی کچے تھے۔اس کے علاوہ بالائی منزل میں دو کمرے اور برآمدہ کی تعمیر ہوئی تھی۔بنیادی تعمیرات اور مرمت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپریل ۱۹۳۲ء میں از سر نو تعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کیا۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں الفضل مورخہ ۳؍مئی ۱۹۳۲ء صفحہ ۵ کالم ۱ و ۲ و تاریخ احمدیت جلد ۵ صفحہ ۲۹۸) چونکہ مسجد اقصیٰ کی توسیع کا منصوبہ کافی عرصہ سے زیر غور تھا کیونکہ عمارت شکستہ حال ہوچکی تھی اس لئے بعد از منظوری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اکتوبر ۲۰۰۷ء میں اسے گرادیا گیا۔اب اس جگہ کو مسجد اقصیٰ کی توسیع میں شامل کرلیا گیا ہے۔۱ یعنی مفتی محمد صادق صاحب ؓ۔(شمس) ۲ یہ مفتی صاحب ؓ کے صاحبزادے منظور احمد کی طرف اشارہ ہے۔(شمس)