تذکرہ — Page 753
۱۲؍ دسمبر۱۸۹۳ء ’’ لَا یُرَی اللّٰہُ اِلَّا مِنْ نَّفْیٍ عَنْ اِرَادَاتِ الدُّ نْیَا کُلِّھَا۔مَا ضَلَّ الشَّیْخُ وَمَا غَوٰی۔یَـا اَیُّـھَا الْعَوَآ مُّ اتَّبِعُوا الْاِمَامَ۔‘‘۱؎ (جیبی بیاض حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۷۲) ۱۸۹۳ء حکیم محمد حسین صاحبؓ مرہم عیسیٰ لکھتے ہیں۔’’سیّدنا واما منا مسیح موعود علیہ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ وَ رَحْـمَتَہٗ نےمجھے ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی بتادیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہاماً اطلاع دی ہے کہ۔’’حسین کو ٹیپوؤں کے شَر سے بچایا گیا ہے‘‘ سو خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و رحم سے مجھے ہر قسم کے فتنہ اور مصیبت اور بلا سے بچایا۔‘‘ (دیباچہ طِبّی مِائَۃُ عَامِل صفحہ ۲۹ مصنفہ حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ بیرون دہلی دروازہ لاہور مطبوعہ ۲۹؍ مارچ ۱۹۵۰ء) ۱۸۹۳ء مکرم میاں محمد عبد الرحمٰن خان صاحبؓ و مکرم میاں محمد عبداللہ خان صاحبؓ۲؎ بیان کرتے ہیں کہ ہماری پھوپھیوں کے ہاں اولاد نہ تھی۔اُنہوں نے والد صاحب سے کہا کہ حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کریں۔نواب صاحب نے عرض کیا۔بعد ازاں حضور ؑ نے فرمایا کہ۔’’مَیں نے دیکھا کہ مجھے گولیاں ملی ہیں۔کچھ مَیں نے (حضرت) مولوی نورالدین صاحب کو دے دیں کچھ آ پ۳؎ کو۔لیکن مَیں نے نواب عنایت علی خان صاحب۴؎ کو تلاش کیا لیکن وہ نہ ملے۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے۔حصّہ دوم صفحہ ۱۹۷ مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء) ۱ (ترجمہ ا ز مرتّب) خدا تعالیٰ دُنیا کے تمام ارادوں کو ترک کئے بغیر دکھائی نہیں دیتا۔بزرگ شخص نہ ہی گمراہ ہوا اور نہ ہی ناکام اور ہلاک ہوا۔اے عوام امام کی اتباع کرو۔۲ (نوٹ از ناشر) پسران حضرت حجۃ اللہ نواب محمد علی خان صاحبؓ۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی نواب محمد علی خان صاحبؓ، چنانچہ نواب صاحبؓ کے ہاں اِس رؤیا کے بعد نرینہ اولاد ہوئی۔اِس سے پہلے دو لڑکیاں ہی تھیں اِسی طرح حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ خلیفہ اوّل کے ہاں بھی اُس وقت تک کئی لڑکے ہوکر فوت ہوچکے تھے اَب اس کے بعد آپ کو زندگی پانے والی نرینہ اولاد عطا ہوئی لیکن نواب عنایت علی خان صاحب کے ہاں ایک بیوی سے تو کوئی اولاد نہ ہوئی البتہ ایک دوسری بیگم کے بطن سے دو لڑکیاں ہوئیں۔۴ (نوٹ از ناشر) آپ حضرت حجۃ اللہ نواب محمد علی خان صاحبؓ کی ہمشیرہ مکرمہ فاطمہ بیگم صاحبہ کے خاوند تھے۔