تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 743 of 1089

تذکرہ — Page 743

…فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔اس کے بعد مَیں چار دن یہاں رہا۔میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا۔جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔‘‘ ( سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۶۳۶ صفحہ۶۰۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۳ء (الف) حافظ محمد ابراہیم صاحبؓ ولد میاں نادر علی صاحب سکنہ مکووال ضلع انبالہ نے بیان کیا۔’’۸۳ ء میں جب شہب گرے تو فرمایا۔اس وقت مَیں دیکھ رہا تھا کہ مَیں اور سیّد عبدالقادر برابر برابر کھڑے ہیں۔پھر مَیں نے دیکھا کہ شیخ سعدی اور سیّد عبدالقادر ایک باغ میں سیر کر رہے ہیں۔انہی ایام میں آپ کو الہام ہوا ’’ یَـا عَبْدَ الْقَادِرِ۔‘‘ فرمایا کہ اولیاء کو عبدالقادر کا خطاب اُس وقت دیا جاتا ہے جب اُن کے لئے قادرانہ نشان دکھانے مقصود ہوں۔‘‘ ( الحکم جلد ۳۹ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۱ ؍ مارچ ۱۹۳۶ء صفحہ ۵) (ب) حافظ نور محمد صاحبؓ سکنہ فیض اللہ چک ضلع گورداسپور نے بیان کیا۔’’ایک دفعہ حضور ؑ نے فرمایا کہ مَیں نے خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سیّد عبدالقادر ؒ صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کراکر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرہ کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہوکر فرمانے لگے کہ آؤ ہم اور تم برابر برابر کھڑے ہوکر قد ناپیں۔پھر انہوں نے میرے بائیں۱؎ طرف کھڑے ہوکر کندھے سے کندھا ملایا تو اُس وقت دونوں برابر برابر رہے۔‘‘ ( سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت ۴۸۱ صفحہ ۵۰۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء۔الحکم جلد ۳۷ نمبر ۳۳مورخہ ۱۴؍ ستمبر ۱۹۳۶ء صفحہ ۴) مولوی رحیم بخش صاحبؓ سکنہ تلونڈی جُھنگلاں ضلع گورداسپور نے بیان کیا۔’’حضرت صاحب ؑ نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔’’ یُنَجِّیْکَ مِنَ الْغَمِّ وَ کَانَ رَبُّکَ قَدِ یْرًا‘‘۲؎ اور آپ ؑ نے فرمایا کہ ’’ ہمیں خدا کے فضل سے غم تو کوئی نہیں ہے شاید آئندہ کوئی غم پیش آئے۔جب مکان پر آئے تو ایک شخص امرتسر سے یہ خبر لایا کہ آپ کا وہ نگینہ جو ’’ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ‘‘ لکھنے کے واسطے ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) الحکم میں دائیں طرف کا ذکر ہے۔(الحکم مورخہ ۱۴؍ ستمبر ۱۹۳۶ء صفحہ ۴) ۲ (ترجمہ از مرتّب) خدا تجھے غم سے نجات دے گا اور تیرا ربّ قادر ہے۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) الحکم مورخہ ۱۴؍ اگست ۱۹۳۴ء صفحہ ۳ میں متعلقہ حوالہ میں ’’ نُنَجِّیْکَ‘‘ چھپا ہے۔