تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 742 of 1089

تذکرہ — Page 742

فرمائی… (ابھی) دعا میں مصروف تھے کہ عین دعا کرتے کرتے حضرت صاحب کو الہام ہوا۔’’ناکامی‘‘ پھر دعا کی تو الہام ہوا۔’’ اَے بسا آرزُو که خاک شُدہ ‘‘۱؎ پھر اس کے بعد ایک اَور الہام ہوا۔’’ فَصَبْرٌ جَـمِیْلٌ ‘‘۲؎ …فرمایا کہ معلوم نہیں میاں عبداللہ صاحب کا ہمارے ساتھ کیسا تعلق ہے کہ اِدھر دعا کرتا ہوں اور اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب مل جاتا ہے۔چند دنوں کے بعد میاں محمد یوسف صاحب کا جواب آگیا کہ میاں عبداللہ کے والد اور دادا اور خسر تو راضی ہوگئے ہیں مگر اسمٰعیل انکار کرتا ہے۔اِس پر حضرت نے فرمایا کہ اَب ہم اسمٰعیل کو خود کہیں گے …ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے الہامات کا یہ منشا ہو کہ جس طریق پر کوشش کی گئی ہے اِس میں ناکامی ہے اور کسی اَور طریق پر کامیابی مقدر ہو…پھر حضرت صاحب نے اسمٰعیل کو میرے متعلق کہا مگر اُس نے انکار کیا اور کئی عذر کردیئے۔‘‘ (سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱۔روایت نمبر ۱۰۱ صفحہ ۷۷ تا ۷۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۲ء میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ نے بیان کیا۔’’حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ابھی مَیں نے اسمٰعیل سے بات شروع نہیں کی تھی کہ مجھے کشف ہوا تھا کہ اُس نے میرے بائیں ہاتھ پر دَست پھر دیا ہے۔نیز مَیں نے کشف میں دیکھا تھا کہ اُس کی شہادت کی اُنگلی کٹی ہوئی ہے۔اِس پر مَیں سمجھ گیا تھا کہ یہ اِس معاملہ میں مجھے نہایت گندے جواب دے گا… اس کے بعد اسمٰعیل نے اپنی لڑکی کی دوسری جگہ شادی کردی…مگر اِس شادی کے بعد اسمٰعیل پر بڑی مصیبت آئی۔‘‘ ( سیرت المہدی مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے، جلد ۱ روایت نمبر ۱۰۱ صفحہ۷۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۳ء مرزا دین محمد صاحبؓ سکنہ لنگروال ضلع گورداسپور نے بیان کیا۔’’ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے صبح کے قریب جگایا اور فرمایا کہ۔’’…مَیں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چُنا ہوا ہے۔‘‘ ۱ (ترجمہ از مرتّب) ہائے بہت سی آرزوئیں ہیں جو خاک میں مل گئیں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) پس صبر اچھا ہے۔