تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 741 of 1089

تذکرہ — Page 741

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۱۸۷۶ء یا اس سے قبل صوفی نبی بخش صاحبؓ ابن مکرم عبد الصمد صاحب ملازم دفتر ایگزامینر صاحب بہادر آف لاہور نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’بڑے مرزا صاحب۱؎ پر ایک مقدّمہ تھا۔مَیں نے دُعا کی تو ایک فرشتہ مجھے خواب میں ملا جو چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا۔مَیں نے پوچھا تمہارا کیا نام ہے؟ وہ کہنے لگا میرا نام حفیظ ہے۔پھر وہ مقدّمہ رفع دفع ہوگیا۔‘‘ ( الحکم جلد ۳۸ نمبر ۱۴مورخہ ۲۱؍ اپریل۱۹۳۵ء صفحہ ۴) ۱۸۷۶ء (تقریباً) میاں امام الدین صاحب ؓ سیکھوانی نے بیان کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو نوماہ کے روزے رکھے، اس دَوران میں جورؤیاو کشوف ہوئے، اُن کا ذکر فرماتے ہوئے حضور ؑ نے ایک دفعہ فرمایا۔’’جب مَیں تین ماہ کے قریب پہنچا تو ایک شخص بڑا قد آور، جسیم، رنگ سرخ میرے سامنے یہ الفاظ کہتا تھا قرت، قرت، قرت۔‘‘ ( رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۵ صفحہ ۶۶۔الحکم ۲؎ جلد۳۸ نمبر ۳۰مورخہ ۲۱؍ اگست۱۹۳۵ء صفحہ ۶) ۱۸۸۲ء میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ نے بیان کیا۔’’جب مَیں ۱۸۸۲ء میں پہلے پہل قادیان آیا تو اُس وقت …میری ایک شادی ہوچکی تھی اور دوسری کا خیال تھا جس کے متعلق مَیں نے بعض خوابیں بھی دیکھی تھیں۔مَیں نے ایک دن حضرت صاحب کے ساتھ ذکر کیا … آپ نے میرے ماموں محمد یوسف صاحب مرحوم کو …خط لکھا اور اس میں اسمٰعیل کے نام بھی ایک خط ڈالا (جس کی لڑکی کا رشتہ مطلوب تھا)…حضرت صاحب نے اِدھر یہ خطوط لکھے اور اُدھر میرے واسطے دعا شروع ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد حضرت میرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم و مغفور۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) الحکم پرچہ مذکورہ بالا میں اِس الہام کا ترجمہ بھی ساتھ ہی درج ہے جو یہ ہے۔’’تجھ کو قدر والا کیا۔تجھ کو قدر والا کیا۔تجھ کو قدر والا کیا۔‘‘ آگے یہ لکھا ہے۔’’یہ بھی ایک کشف تھا۔‘‘ ممکن ہے کہ راوی کو سننے میں غلطی لگی ہو اور دراصل لفظ وَقَرْتَ ہوجیسا کہ ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے اور حرف و سہواً حذف ہوگیا ہے۔وقار کے معنی قدر و عظمت کے ہیں۔