تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 724 of 1089

تذکرہ — Page 724

اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں۔۳۔اِنِّیْ ۱؎مَعَکَ یَـا مَسْـرُوْرُ۔۴۔وَقَعَ وَاقِعٌ وَّ ھَلَکَ ھَالِکٌ۔۵۔وَضَعْنَا النَّاسَ تَـحْتَ اَقْدَامِکَ۔۶۔وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔۷۔اُجِیْبَتْ دَعْوَتُکَ۔۸۔سَنُرِیْـھِمْ اٰیَـاتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ۔۹۔اُجِیْبَتْ دَعْوَتُکُمَا۔۱۰۔اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍقَدِ یْرٌ۔۱۱۔اِنِّیْ مَعَکَ یَـا اِبْرَاھِیْمُ۔۱۲۔اِنِّیْ اَنَـا رَبُّکَ الْاَعْلٰی۔۱۳۔اِخْتَرْتُ لَکَ مَا اخْتَرْتَ۔۱۴۔بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید۲؎۔۱۵۔ستائیس کو ایک واقعہ۳؎ (ہمارے متعلق) ۱ (ترجمہ) ۳۔اے مسرور مَیں تیرے ساتھ ہوں۔۴۔ایک واقع وقوع میں آئے گا اور ہلاک ہونے والا ہلاک ہوگا۔۵۔ہم نے لوگوں کو تیرے قدموں کے نیچے رکھ دیا۔۶۔ہم نے تجھ سے وہ بوجھ اُٹھا دیا جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی اور تیرے ذکر کو بلند کیا۔۷۔تیری دُعا قبول کی گئی۔۸۔عنقریب ہم ان کو نشانات دکھلائیں گے گردونواح میں اور خود اُن میں۔۹۔تم دونوں کی دُعا قبول کی گئی۔۱۰۔تحقیق اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔۱۱۔مَیں تیرے ساتھ ہوں اے ابراہیم! ۱۲۔مَیں تیرا رَبِّ اعلٰی ہوں۔۱۳۔مَیں نے تیرے لئے وہ امر پسند کیا جو تونے اپنے لئے پسند کیا۔(بدر مورخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴، ۵) ۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۴۔خوشی و خرمی سے چل کہ تیرا وقت قریب آگیا۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مکتوب میں بھی جو نواب محمد علی خان صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ کو بھیجا تحریر فرمایا۔’’دوسرے نہایت خوفناک امر جو ہر وقت دِل کو غمناک کرتا رہتا ہے ایک پیشگوئی ہے جو چند دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوچکی ہے۔مَیں نے بجز گھر کے لوگوں کے کسی پر اس کو ظاہر نہیں کیا۔اِس پیشگوئی کے ایک حصہ کا حادثہ ہم میں اور آپ میں مشترک ہے۔بہت دُعا کرتا ہوں کہ خدا اس کو ٹال دے اور دوسرے حصہ کا حادثہ خاص ہم سے اور ہمارے گھر کے کسی شخص سے متعلق ہے۔یہ بھی الہام کسی حصہ کی نسبت ہے کہ ۲۷ تاریخ کو وہ واقعہ ہوگا۔نہیں معلوم کس مہینہ کی تاریخ اور کون سا سَن ہے۔‘‘ (مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوباتِ احمد جلد ۲ صفحہ ۳۱۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) واقعات نے بتادیاکہ یہ تاریخ ۲۷؍ مئی ۱۹۰۸ء کی تھی جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھایا گیا۔