تذکرہ — Page 713
۱۶؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ۔۲۔لَا یُـخْزٰی عَبْدِ یْ وَ لَا یُـھَانُ۔۳۔عِشْقُکَ قَائِمٌ وَّ وَصْلُکَ دَآئِمٌ۔‘‘۱؎ (بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’ الہام۔۱۔اِنَّـا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ۔۲۔یَنْزِلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَکِ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳) ۲۰؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’ ۱۔اِنِّیْ مَوْجُوْدٌ فَانْتَظِرْ۳؎۔۲۔اِنِّیْ اَنَـا الْمَوْجُوْدُ فَاطْلُبْنِیْ تَـجِدْ۔نِیْ۴؎۔۳۔لَا تُـھَدُّ۵؎ بِنَآؤُکَ وَ تُـؤْتٰی مِنْ رَّبٍّ کَرِیْمٍ۶؎۔۴۔وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔‘‘۷؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳، ۱۴) ۲۱؍ اکتوبر۱۹۰۷ء ’’۱۔مَنْ۸؎ عَادَا وَ لِیًّالِّیْ فَکَاَ نَّـمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ۔۲۔اِنِّیْ مَوْجُوْدٌ فَانْتَظِرْ۔‘‘۹؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔مَیں ہی رحمٰن ہوں۔۲۔میرا بندہ رُسوانہیں کیا جاتا اورنہ اسے ذلیل کیا جاتا ہے۔۳۔تیرا عِشق قائم ہے اور تیرا تعلق ہمیشہ رہنے والا ہے۔۲ (ترجمہ) ۱۔ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔۲۔وہ مبارک احمد کی شبیہ ہوگا۔(بدر مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۳ (ترجمہ) ۱۔میں موجود ہوں انتظار کر۔(بدر مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۴ (ترجمہ از ناشر) ۲۔میں موجود ہوں مجھے تلاش کر تو مجھے پا لے گا۔۵ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور بدر مورخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ میں یہاں ’’لَا تُـھَدُّ‘‘ کی بجائے ’’لَا یُـھَدُّ‘‘ تحریر ہے نیز الہام نمبر ۳ و ۴ کی تاریخ نزول ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء درج ہے۔۶ (ترجمہ) تیری بنا توڑی نہ جائے گی اور تو ربّ کریم سے دیا جائے گا۔(بدر مورخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۷ (ترجمہ از مرتّب) ۴۔ہم نے تجھ سے تیرا بوجھ اُتار دیا جس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی اور تیرے ذکر کو بلند کردیا۔۸ (ترجمہ)۔۱۔جس نے میرے ولی کے ساتھ دشمنی کی گویا آسمان سے گرا۔۲۔میں موجود ہوں انتظار کر۔(بدر مورخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۹ (نوٹ از ناشر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’اِنِّیْ مَوْجُوْدٌ کا الہام اُن لوگوں کے جواب میں معلوم ہوتا ہے جو خدا کے مُرسل کے مقابل پر ایسی شوخی اور تکذیب سے پیش آتے ہیں کہ گویا خیال کرتے ہیں کہ خدا موجود نہیں۔