تذکرہ — Page 696
اِس الہام کی وجہ سے ہم نے ایک آدمی لاہور بھیج کر پچھوایا بھی تھا کہ وہاں کے دوستوں کا کیا حال ہے مگر کیا معلوم تھا کہ یہ چند دن کے بعد پورا ہوگا۔۱؎ (بدر جلد ۶ نمبر۲۷ مورخہ۴ ؍ جولائی۱۹۰۷ء صفحہ ۷) ۱۲؍جون ۱۹۰۷ء الہام۔’’ رَبِّ اَرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ ‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۴) ۱۹۰۷ء ’’ اُرِیْکَ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔‘‘۳؎ (بدر جلد ۶ نمبر۲۷ مورخہ۴ ؍ جولائی۱۹۰۷ء صفحہ ۴) بقیہ حاشیہ۔کرکے کشف میں کہتے ہیں کہ ’’ اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں‘‘ اب ظاہر بات ہے کہ یہ الہام حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے متعلق پورا نہیں ہوا۔… یہ بات بعینہٖ آپ کی ذات پر پوری ہوئی ہے۔وہ امارت مقامی جس میں مَیں بیٹھا کرتا تھا اب ظاہر ہے کہ مَیں اِس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمائندہ ہوں، اِس وقت میاں شریف احمد صاحب موجود نہیں ہیں۔اگر کوئی شخص موجود ہے تو یہ آپ کا بیٹاہے جس کے متعلق بعینہٖ یہ الفاظ پورے ہوتے ہیں ’’اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں ‘‘ یقینا آپ کا ایک مقام تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں سے وہ مقام بنا ہے اور اُبھرا ہے اور آئندہ آنے والی تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ آپ کا وجود ایک مبارک وجود تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا روحانی بیٹا ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔جو کچھ بھی اپنے بیٹے کے متعلق دیکھا وہ ان کے بیٹے کے متعلق پورا ہوا۔اب جبکہ مَیں نے ان کی جگہ ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی ان کے صاحبزادے مرزا مسرور احمد کو بنایا ہے تو میرا اس الہام کی طرف بھی دھیان پھرا کہ گویا آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ میری جگہ بیٹھ۔یہ ساری باتیں ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی روح ایک پاک روح تھی، بہت دلیر انسان، خلافت کے حق میں ایک سونتی ہوئی تلوار تھے… اب میں ساری جماعت کو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے لئے دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور میں مرزا مسرور احمد صاحب کے متعلق بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحیح جانشین بنائے۔’’تو ہماری جگہ بیٹھ جا ‘‘ کا مضمون پوری طرح ان پر صادق آئے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ خود ان کی حفاظت فرمائے اور ان کی اعانت فرمائے۔‘‘ (الفضل انٹرنیشنل لندن ۳۰؍ جنوری تا ۵؍ فروری ۱۹۹۸ء) ۱ چنانچہ چند رو زکے بعد خبر آئی کہ مریض فوت ہوگیا ہے (جو) ایک معصوم بچہ تھا۔(ایڈیٹر بدر۔پرچہ مذکورہ بالا) ۲ (ترجمہ از مرتّب) اے میرے ربّ مجھے وہ زلزلہ دکھا جو قیامت کا نمونہ ہوگا۔۳ (ترجمہ) یعنی مَیں تجھے وہ زلزلہ دکھاؤں گا جو قیامت کا نمونہ ہوگا۔(بدر مورخہ۴ ؍ جولائی۱۹۰۷ء صفحہ ۴)