تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 682 of 1089

تذکرہ — Page 682

۲؍ اپریل۱۹۰۷ء (الف) ’’ ھَلْ نَرٰی جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانَ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۶) (ب) ’’ ۱۔اِنَّـا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا۔۲؎ ۲۔سَنَسِمُہٗ عَلَی الْـخُرْطُوْمِ۔۳۔اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔۴۔سَنَسِمُہٗ عَلَی الْـخُرْطُوْمِ۔۵۔رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔۶۔اِنَّـا اَنْـزَلْنَاہُ عَلٰی رَقِیْمَۃٍ مِّنْ مُّوْسٰی۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۵، ۳۴) ۳؍ اپریل۱۹۰۷ء ’’ ۱۔فَضَّلْنَاکَ۴؎ عَلٰی مَا سِوَاکَ۔۲۔وَ اللّٰہِ لَوْ لَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔۵؎ ۳۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔۶؎ ۴۔حَقَّ اللّٰہُ اَمْرِیْ ۵۔وَلَا تَنْفَکَّا مِنْ ھٰذِ ہِ الْمَرْحَلَۃِ۔۷؎ ۶۔دولت ِ اعلام بذریعہ الہام۔۷۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔۸۔وَ اُعْطِیْکَ مَایَدُ وْمُ۔۸؎ ۱ (ترجمہ) نہیں دیکھتے ہم احسان کی جزا بجز احسان کے۔(بدر مورخہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۴ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں اس الہام کی تاریخ نزول ۲۹؍مارچ ۱۹۰۷ء درج ہے۔۲ (ترجمہ از ناشر) ۱۔ہم ایک بڑی فتح تجھ کو عطا کریں گے۔۳ (ترجمہ) ۲۔اس کی ناک پر یامنہ پر ہم آگ کا داغ لگائیں گے۔۳۔مَیں اس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کرتا ہے۔۴۔اس کی ناک پر یامنہ پر ہم آگ کا داغ لگائیں گے۔۵۔اے میرے خدا ! مَیں مغلوب ہوں تُو انتقام لے۔۶۔ہم نے اس ارادہ کو موسیٰ کی تحریر پر اُتارا ہے یعنی موسیٰ نے ایسا ہی ارادہ بذریعہ تحریر ظاہر کیا سو ہم نے اس سے اتفاقِ رائے کیا۔(بدر مورخہ ۹؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۴ (ترجمہ) ۱۔تیرے سوائے جتنے ہیں ان سب پر ہم نے تجھے بزرگی دی۔(بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۴) ۵ (ترجمہ) ۲۔قسم ہے اللہ کی کہ اگر تمہارا اِکرام ہم کو منظور نہ ہوتا تو یہ مقام ہلاک ہوجاتا۔(بدر مورخہ ۲۸؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۶ (ترجمہ ازمرتّب) ۳۔تمہارے لئے سلامتی ہے۔۷ (ترجمہ از ناشر) ۴۔اللہ تعالیٰ نے میرے معاملہ کو حق کر دکھایا۔۵۔اور تم دونوں اس مرحلہ سے نہیں چھوٹو گے۔۸ (ترجمہ) ۷۔مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور جو اُسے ملامت کرتا ہے اسے ملامت کروں گا۔۸۔اور تجھے وہ چیز دوں گا جو ہمیشہ رہے۔(بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴)