تذکرہ — Page 680
گزرنے نہ پاوے۔یعنی جو شخص خدا سے تعلق رکھنے والا ہے اس کا تعلق قائم نہیں رہ سکتا جب تک وہ مجھے قبول نہ کرے۔۶۔کوئی درباری اس جرم پر سزاسے محفوظ نہیں رہے گا۔۷۔سلطان عبدالقادر۔۱؎ ۸۔اُحِلَّ لَہُ الطَّیِّبَاتُ۔۹۔قُلْ مَا فَعَلْتُ اِلَّا مَا اَمَرَنِیَ اللّٰہُ۔۲؎ پھر وہ مقبرہ کشفی رنگ میں مجھے دکھلایا گیا جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا ہے۔بعد اس کے الہام ہوا۔کُلُّ مَقَابِـرِ الْاَرْضِ لَا تُقَابِلُ ھٰذِ ہِ الْاَرْضَ۔یعنی زمین ِ ہند کے ہر یک قبرستان اِس زمین کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۷۲، ۷۱) ۲۸؍مارچ ۱۹۰۷ء (رؤیا) ’’مَیں نے دیکھا کہ ایک راہ پر چل رہا ہوں اور میرے ساتھ میرا لڑکا مبارک احمد اور اُس کی والدہ ہے اور مجھے خیال گزرتا ہے کہ میرزا غلام قادر مرحوم بھی (جو میرے بھائی ہیں) میرے ساتھ ہیں اور راہ میں اِس قدر زنبور ہیں کہ ٹِڈّی دَل کی طرح زمین پر پھیل رہے ہیں اور ایک میری ناف کے اندر بیٹھ گیا ہے اور پھر اُڑ گیا مگر کسی نے ضرر نہیں پہنچایا اور پھر ہم سب ایک مسجد میں داخل ہوگئے ہیں اور مسجد ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’ اِس الہام میں میرا نام سلطان عبدالقادر رکھا گیا کیونکہ جس طرح سلطان دوسروں پر حکمران اور افسر ہوتا ہے۔اسی طرح مجھ کو تمام روحانی درباریوں پر افسری عطا کی گئی ہے۔یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کا تعلق نہیں رہے گا جب تک وہ میری اطاعت نہ کریں اور میری اطاعت کا جوآ اپنی گردن پر نہ اُٹھائیں۔یہ اسی قسم کا فقرہ ہے جیسا کہ یہ فقرہ کہ قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَ لِیِّ اللّٰہِ۔یہ فقرہ سیّد عبدالقادر رضی اللہ عنہ کا ہے جس کے معنی ہیں کہ ہر ایک ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔‘‘ (بدر مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۲) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’اِس سلطان عبدالقادر کے لئے وہ تمام چیزیں حلال کی گئیں جو پاک ہیں۔کہہ مَیں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جو خدا کے حکم کے برخلاف ہو بلکہ وہی کیا جو خدا نے مجھے فرمایا۔‘‘ (بدر مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۲) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔یعنی اِس زمین کو جو برکتیں دی گئیں وہ برکتیں تمام پنجاب اور ہندوستان میں کسی اور قبرستان کو نہیں دی گئیں۔(بدر مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۲)