تذکرہ — Page 676
۷۔کُلٌّ لَّکَ وَلِاَمْرِکَ۔۱؎ ۸۔یا اللہ ! اب شہر کی بَلائیں بھی ٹال دے۔۲؎ ۹۔ایک موسیٰ۳؎ ہے مَیں اس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اس کو عزت دوں گا۔۱۰۔اَجُرُّ الْاَثِیْمَ وَ اُرِیْہِ الْـجَــحِیْمَ۔(ترجمہ حسب ِتفہیم) اور جس نے میرا گناہ کیا ہے مَیں اس کو گھسیٹوں گا اور اس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔۱۱۔بَـلَجَــتْ اٰیَـاتِیْ۔۱۲۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔‘‘۴؎ (بدر جلد ۶ نمبر۱۲ مورخہ۲۱ ؍ مارچ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۰مورخہ ۲۴ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۱۹؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’ ۱۔اَرَدْتُّ۵؎ زَمَانَ الزَّلْزَلَۃِ۔۶؎ ۱ (ترجمہ ) سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے ہے۔(بدر ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ’’یہ جو الہام تھا کہ یا اللہ اب شہر کی بلائیں بھی ٹال دے۔گو اس کے معنے اور بھی ہوں مگر ایک معنی اِس کے یہ بھی ہیں کہ یہ سخت بدزبان آریہ سوم راج اور اچھر جوہر ہفتہ گندی گالیوں کے بھرے ہوئے اخبار چھاپتے تھے یہ بھی اس شہر کی بَلائیں تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو ٹال دیا اور جہنّم واصل کردیا۔‘‘ (بدر مورخہ۲۵ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۷) فرمایا۔’’ جب سے کہ یہ الہام ہوا ہے کہ یا اللہ اب شہر کی بلائیں بھی ٹال دے تب سے قادیان میں گویا امن ہے یہ بھی ایک تازہ نشان ہے۔‘‘ (بدر مورخہ۲۸ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) الحمد للہ یہ پیشگوئی روز اشاعت کے سترھویں دن پوری ہوگئی۔حضرت اقدس کا نام خدا تعالیٰ نے اپنے الہام میں موسیٰ رکھا ہے۔حضور کے مقابل پر بابو الٰہی بخش اکونٹنٹ نے بھی موسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا۔خدا تعالیٰ نے حضور کو فرمایا کہ موسیٰ تو ہی ہے اور کوئی موسیٰ نہیں۔چنانچہ اپریل ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں بروز اتوار بابو الٰہی بخش طاعون سے ہلاک ہوگیا۔الہام نمبر ۱۰ کے قبل از وقت بتانے سے اس کی ذلّت اور نمایاں ہو جاتی ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔(مزید دیکھئے بدر مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵) ۴ (ترجمہ) ۱۱۔میرے نشان ظاہر ہوجائیں گے۔۱۲۔کہہ دے اللہ ہے اورپھر ان کو چھوڑدے اپنی بےہودگی میں لعب کریں۔( بدر مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۵ (ترجمہ) مَیں نے ارادہ کیا ہے کہ زلزلہ کا زمانہ آجاوے۔( بدر مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۶ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۲۸ ؍ مارچ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ۱ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’اِس سے کسی معمولی زلزلہ کی طرف اشارہ نہیں معلوم ہوتا بلکہ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو