تذکرہ — Page 673
؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’۱۔یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔۲۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـامِنْکَ۔۳۔ظُھُوْرُکَ ظُھُوْرِیْ۔۴۔اَنْتَ الَّذِیْ طَارَ اِلَیَّ رُوْحُہٗ۔۵۔اِنِّیْ اَنَـا اللّٰہُ ذُو الْـجُوْدِ وَالْعَطَا۔۶۔اُنْـزِلُ الرَّحْـمَۃَ عَلٰی مَنْ اَشَآءُ۔۱؎ ۷۔وَ اسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ۲؎۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۹۷) ۱۳؍ مارچ۱۹۰۷ء ’’۱۔اِنِّیْ نَعَیْتُ۳؎ فِیْـھَا۔میں نے کسی موت کی خبر دی۔۲۔اِنَّـمَا یُـرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْ ھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔۴؎ ۳۔یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں میں ایک قسم کی طاعون پھیلے گی جو بہت ہی سخت ہے۔۵؎ ۴۔ریاست کابل میں ہزار کے قریب آدمی فوت ہوگا۔۶؎ ۱ (ترجمہ) ۱۔اے عیسیٰ ! مَیں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھالوں گا۔۲۔تُو مجھ سے ہے اور مَیں تجھ سے۔۳۔تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔۴۔تُو وہ ہے جس کے رُوح نے میری طرف پرواز کیا۔۵۔مَیں خدا ہوں صاحب ِ جُود اور بخشش۔۶۔جس پر چاہتا ہوں رحمت نازل کرتا ہوں۔(بدر مورخہ ۱۴ ؍ مارچ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۲ (ترجمہ از ناشر) ۷۔وہ (کشتی) جودی (پہاڑ) پر جا ٹھہری۔(نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۴ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہ الہام ۱۳؍مارچ ۱۹۰۷ء کے تحت درج ہے۔نیز تحریر ہے کہ ’’یہ اِس آیت کی طرف اشارہ ہے۔وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ۔‘‘۷؎ (ہود:۴۵) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۴ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہاں ’’اِنِّیْ نَعَیْتُ‘‘ کے الفاظ درج ہیں جس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ’’یہ پیشگوئی آج پوری ہوگئی کہ آج ہی سِول میں خبر آئی ہے کہ ڈوئی جس کے عذاب کے بارے میں مَیں نے خبر دی تھی وہ مر گیا۔یہ وہ ڈوئی ہے جس کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا۔‘‘ ۴ (ترجمہ) ۲۔خدا نے ارادہ کیا ہے اے اہلِ خانہ کہ تمہاری پلیدی کو دُور کرے اور تمہیں پاک کرے جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا۔(بدر مورخہ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۵، ۶ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۴ ؍ مارچ۱۹۰۷ءصفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہ الہامات یوں درج ہیں۔’’یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں میں ایک قسم کی طاعون پھیلے گی جو بہت ہی سخت ہوگی۔ریاست کابل میں ۸۵ہزار کے قریب آدمی مریں گے۔‘‘ ۷ (ترجمہ از مرتّب) اور پانی خشک کردیا گیا اور فیصلہ صادر کردیا گیا اور وہ (کشتی ) جودی (پہاڑ) پر ٹھہر گئی۔