تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 665 of 1089

تذکرہ — Page 665

۲۰؍ فروری۱۹۰۷ء (الف) ’’ مِنَ النَّاسِ وَالْعَامَّۃِ‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲۵) (ب) ’’ ۱۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ۔۲؎ ۲۔پسپاشدہ ہجوم۔۳۔افسوسناک خبر آئی ہے۔فرمایا۔اِس الہام پر ذہن کا اِنتقال بعض لاہور کے دوستوں کی طرف ہوا مگر یہ اِنتقالِ ذہن بعد بیداری ہوا۔الہام بھی شاید اس کے متعلق ہو۔۴۔بہتر ہوگا کہ اَور شادی کرلیں۔فرمایا۔معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۸ مورخہ۲۱ ؍ فروری۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۷مورخہ ۲۴ ؍ فروری۱۹۰۷ء صفحہ ۱) (ج) ’’ خدا فرماتا ہے کہ۔مَیں ایک تازہ نشان۳؎ ظاہر کروں گا جس میں فتحِ عظیم ہوگی۔وہ عام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا ۱ (ترجمہ از ناشر) خواص الناس اور عوام الناس میں سے۔۲ (ترجمہ) ۱۔مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑاہوں گا اور اس کے ملامت کنندہ کو ملامت کروں گا۔(بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف) ’’ڈوئی اِس پیشگوئی کے بعد اِس قدر جلد مَر گیا کہ ابھی پندرہ دن ہی اس کی اشاعت پر گزرے تھے کہ ڈوئی کا خاتمہ ہوگیا۔پس ایک طالب ِ حق کے لئے یہ ایک قطعی دلیل ہے کہ یہ پیشگوئی خاص ڈوئی کے بارے میں تھی کیونکہ اوّل تو اس پیشگوئی میں یہ لکھا ہے کہ وہ فتحِ عظیم کا نشان تمام دُنیا کے لئے ہوگا اور دوسرے یہ لکھا ہے کہ وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے۔پس اِس سے زیادہ عنقریب اَور کیا ہوگا کہ اِس پیشگوئی کے بعد بد قسمت ڈوئی اپنی زندگی کے بیس دن بھی پورے نہ کرسکا اور خاک میں جا ملا۔جن پادری صاحبان نے آتھم کے بارے میں شور مچایا تھا اب اُن کو ڈوئی کی موت پر ضرور غور کرنی چاہیے۔منہ ‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۱۱حاشیہ) (ب) ’’اب ظاہر ہے کہ اِس سے بڑھ کر اَور کیا معجزہ ہوگا۔چونکہ میرا اصل کام کسرِ صلیب ہے سو اُس کے مَرنے سے ایک بڑا حصّہ صلیب کا ٹوٹ گیا کیونکہ وہ تمام دنیا سے اوّل درجہ پر حامیِ صلیب تھا جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میری دعا سے تمام مسلمان ہلاک ہوجائیں گے اور اسلام نابود ہوجائے گااور خانہ کعبہ ویران ہوجائے گا۔سو خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر اُس کو ہلاک کیا…پس مَیں قسم کھاسکتا ہوں کہ یہ وہی خنزیر تھا جس کے قتل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ مسیح موعود کے ہاتھ پر مارا جائے گا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۱۳)