تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 635 of 1089

تذکرہ — Page 635

۲۳؍ اگست۱۹۰۶ء ’’آج کل کوئی نشان ظاہر ہوگا۔۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹۱ بد ر جلد ۲ نمبر ۳۵ مورخہ ۳۰ ؍ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۰ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱) ۲۵؍ اگست۱۹۰۶ء ’’ شَفِیْعُ اللّٰہِ فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی کے یہ میرا نام رکھا ہے اور اس کے معنی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کا شفیع۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۵ مورخہ ۳۰ ؍ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۰ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱) ۴؍ ستمبر۱۹۰۶ء (الف) ’’اِنِّیْ مَعَ الرُّوْحِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً ‘‘ ۲؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۶ ؍ ستمبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۱مورخہ ۱۰ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱) (ب) ’’فرمایا۔آج ہی ایک خواب میں دیکھا کہ ایک چوغہ زرّیں جس پر بہت سنہری کام کیا ہوا ہے مجھے غیب سے دیا گیا ہے۔ایک چور اُس چوغہ کو لے کر بھاگا۔اُس چور کے پیچھے کوئی آدمی بھاگا جس نے چور کو پکڑ لیا اور چوغہ واپس لے لیا۔بعد اس کے وہ چوغہ ایک کتاب کی شکل میں ہوگیا جس کو تفسیر کبیر کہتے ہیں اور معلوم ہوا کہ چور اُس کو اِس غرض سے لے کر بھاگا تھا کہ اِس تفسیر کو نابُود کردے۔فرمایا۔اِس کشف کی تعبیر یہ ہے کہ چور سے مراد شیطان ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ ہمارے ملفوظات لوگوں کی نظر سے غائب کردے مگر ایسا نہیں ہوگا اور تفسیر کبیر جو چوغہ کے رنگ میں دکھائی گئی اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ ہمارے لئے موجب ِ عزّت اور زینت ہوگی۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۶ ؍ ستمبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۱مورخہ ۱۰ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱) بقیہ حاشیہ۔یہ ہے۔وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ۔پھر بعد اس کے آنکھ کھل گئی۔۲۔اِلہام ہوا۔نُصِـرْتَ بِالرُّعْبِ وَقَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔۳۔قریباً نصف رات کے بعد الہام ہوا۔صبر کر خدا تیرے دشمن کو ہلاک کرے گا۔‘‘ ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) ۶ ؍ ستمبر ۱۹۰۶ء کو خدا تعالیٰ نے یہ نشان ظاہر فرما دیا۔تفصیل کے لئے دیکھیے رؤیا ۵؍ستمبر ۱۹۰۶ء اور اس کا حاشیہ۔۲ (ترجمہ) مَیں رُوح کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔(بدر مورخہ ۶؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)