تذکرہ — Page 636
۵؍ ستمبر۱۹۰۶ء ’’ دیکھا کہ عبد الحکیم خان۱؎ چوبارہ کے دروازے پر ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اسحاق کی والدہ نے اس کو بلایا ہے میں نے کہا ہم نہیں آنے دیتے اس میں ہماری بے عزتی ہے۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۸۲) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’اِن دنوں کتاب حقیقۃ الوحی میں نشانات جمع کررہا ہوں تو میرے دل میں خیال آیا کہ پچھلے نشانات کے ساتھ کوئی تازہ نشان بھی ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ نے اِس خیال کو بھی جلد پورا کردیا۔فرمایا۔عبدالحکیم خان چونکہ ایک دشمن ہے اِس واسطے وہ دکھایا گیا۔دشمن کے خواب میں گھر کے اندر داخل ہوجانے کی تعبیر کسی دُکھ اور موت سے ہوتی ہے۔سو مَیں نے خواب میں کہا کہ مَیں اُس کو نہیں آنے دوں گا۔یعنی میری دُعا نے اُس مصیبت کو ٹال دیا۔فرمایا۔اِنِّیْ اُحَافِظُ والا الہام جو اس خواب کے ساتھ تھا ظاہر کرتا تھا کہ کوئی واقعہ طاعون کا ہونے والا ہے۔‘‘ (بدر مورخہ ۱۳ ؍ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۳) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں یہ رؤیا یوں درج ہے۔’’رؤیا۔مَیں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں (مرتد دشمن) ہمارے مکان کے پاس کھڑا ہے اور والدہ محمد اسحاق (زوجہ میر ناصر نواب صاحب ) اُس کو اپنے گھر میں بلاتی ہیں مگر مَیں نے اُسے اندر نہیں آنے دیا اور مَیں نے کہا کہ مَیں نہیں آنے دیتا۔اِس میں ہماری بے عزتی ہے۔دشمن کے گھر میں داخل ہونے سے مراد کوئی مصیبت یا موت ہوتی ہے اور وہ اندر نہیں آسکا یعنی خدا نے اُس بَلا کو ٹال دیا۔پھر الہام ہوا۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔ترجمہ۔مَیں اُن سب کی حفاظت کروں گا جو اِس گھر میں ہیں۔علاوہ اس کے ایک گوشت کا ٹکڑا خواب میں دکھایا گیا جو کِسی غم کی طرف دلالت کرتا تھا اور یہ بھی دیکھا کہ ایک انڈا میرے ہاتھ میں ہے جو کہ ٹوٹ گیا۳؎ ہے۔یہ بھی کِسی کی موت کی طرف اشارہ تھا لیکن خواب کے تمام امور معلق ہوتے ہیں اور دعا سے ٹل سکتے ہیں۔قطعی حکم نہیں ہوتا۔‘‘ ۳ (نوٹ از ایڈیٹر بدر) ’’اِن خوابوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میر ( ناصر نواب ) صاحب (مرحوم) کو جو لاہور جانے کو طیار تھے روک دیا کہ ابھی نہ جاویں اور ان کو کہہ دیا کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ آپ کے اہل و عیال کے متعلق ایک بَلا آنے والی ہے مَیں ڈرتا ہوں کہ وہ بَلا سفر میں نازل ہو اور موجب ِ شماتت ِ اعدا ہوجائے۔اِس کے گواہ خود میر صاحب اورگھر کے لوگ ہیں چنانچہ یہ بات سن کر میر صاحب نے مع اہل و عیال لاہور میں جانا ملتوی کردیا اور جب صبح ہوئی تو