تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 631 of 1089

تذکرہ — Page 631

قَـرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ۔اِنَّ ذَا الْعَرْشِ یَدْعُوْکَ۔وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ کھول دیا یعنی زمین نے اپنی پوری قوت ظاہر کی اور آسمان نے بھی۔اَب تیرا وقت ِ موت قریب آگیا۔ذوالعرش تجھے بُلاتا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ۔وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ رُسوا کنندہ اَمر نہیں چھوڑیں گے۔تیرے ربّ کا وعدہ کم رہ گیا ہے۔اور ہم تیرے لئے کوئی امر رُسوا کنندہ باقی نہیں شَیْئًا۔بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اُس دن خدا کی طرف سے سب پر اُداسی چھوڑیں گے۔زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔اُس دن سب جماعت دِل برداشتہ اور اُداس چھاجائے گی۔یہ ہوگا۔یہ ہوگا۔یہ ہوگا۔پھر تیرا واقعہ ہوگا۔تمام عجائباتِ قدرت دکھلانے ہوجائے گی۔کئی واقعات کے ظہور کے بعد پھر تیرا واقعہ ظہور میں آئے گا۔قدرتِ الٰہی کے کئی عجائب کام پہلے دکھلائے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔جَآءَ وَقْتُکَ وَ نُبْقِیْ لَکَ الْاٰیٰتِ بَاھِرَاتٍ۔جَآءَ جائیں گے پھر تمہاری موت کا واقعہ ظہور میں آئے گا۔تیرا وقت آگیا ہے۔اور ہم تیرے لئے روشن نشان چھوڑیں گے۔تیرا وَقْتُکَ وَ نُبْقِیْ لَکَ الْاٰیٰتِ بَیِّنَاتٍ۔رَبِّ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْـحِقْنِیْ وقت آگیا ہے اور ہم تیرے لئے کھلے نشان باقی رکھیں گے۔اے میرے خدا اِسلام پر مجھے وفات دے اور بِـالصَّالِـحِیْنَ۔اٰمین۔نیکوکاروں کے ساتھ مجھے ملادے۔آمین۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۷۳تا ۱۱۱) ۳۰؍ جولائی۱۹۰۶ء ’’فرمایا۔آج مجھے ایک الہام ہوا۔اُس کے پُورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے مگر معلوم۱؎نہیں کس کے حق میں ہے لیکن خطرناک ہے اور وہ یہ ہے۔ایک دَم میں دَم رخصت ہوا یہ الہام ایک موزوں عبارت میں ہے مگر ایک لفظ درمیان میں سے بھول گیا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخہ ۲ ؍ اگست ۱۹۰۶صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۰۶صفحہ ۱) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) الہام پورا ہونے پر حضورؑ کو اس کا علم دیا گیا کہ یہ میاں صاحب نور مہاجر کے متعلق تھا۔(دیکھیے تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۴۳۵)