تذکرہ — Page 630
اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔سَفِیْنَۃٌ وَّ سَکِیْنَۃٌ۔اِنِّیْ مَعَکَ وَ مَعَ مَیں ہر ایک کو جو اِس گھر میں ہے اس زلزلہ سے بچالُوں گا۔کشتی ہے اور آرام ہے۔مَیں تیرے ساتھ اور تیرے اَھْلِکَ۔اُرِیْدُ مَا تُرِیْدُوْنَ۔پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اہل کے ساتھ ہوں۔مَیں وہی ارادہ کروں گا جو تمہارا ارادہ ہے۔بنگالہ کی نسبت پیشگوئی ہے جو تقسیمِ بنگالہ سے اہل بنگالہ کی دِلآزاری کی گئی اَب ان کی دِلجوئی ہوگی۔اَلْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ جَعَلَ خدا فرماتا ہے کہ پھر وہ وقت آتا ہے کہ پھر کسی پَیرایہ میں اہلِ بنگالہ کی دِلجوئی کی جائے گی۔اُس خدا کو تعریف ہے جس نے لَکُمُ الصِّھْرَ وَ النَّسَبَ۔۱؎ اَلْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْـحَزَنَ۔وَ اٰتَـانِیْ دامادی اور نسب کی رُو سے تیرے پر احسان کیا۔اُس خدا کو تعریف ہے جس نے میرا غم دُور کیا اور مجھ کو وہ چیز دی مَا لَمْ یُـؤْتَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِیْنَ۔یٰسٓ۔اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔عَلٰی جو اِس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔اے سردار ! تُو خدا کا مُرسل ہے۔راہِ راست صِـرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ۔اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ پر۔اُس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنیوالا ہے۔مَیں نے ارادہ کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ۔یُـحْیِ الدِّیْنَ وَ یُقِیْمُ الشَّـرِیْعَۃَ۔چو دَورِ خسروی۲؎ آغاز کردند۔سو مَیں نے اس آدم کو پَیدا کیا۔وہ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔جب مسیح السلطان کا دَور شروع کیا گیا مسلماں را مسلماں باز کردند۔اِنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ کَانَـتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰـھُمَا۔تو مسلمانوں کو جو صرف رسمی مسلمان تھے نئے سِرے سے مسلمان بنانے لگے۔آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں کو ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یعنی خدا نے تجھ پر یہ اِحسان کیا کہ ایک شریف اور معزز اور شہرت یافتہ اور باوجاہت خاندان سے تجھے پیدا کیا اور دوسرے یہ احسان کیا کہ ایک معزز دہلی کے سادات کے خاندان سے تیری بیوی آئی۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۱۰حاشیہ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ خدا تعالیٰ کی کتابو ں میں مسیح آخرالزماں کو بادشاہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔اِس سے مُراد آسمانی بادشاہی ہے۔یعنی وہ آئندہ سلسلہ کا ایک بادشاہ ہوگا اور بڑے بڑے اکابر اس کے پَیرو ہوں گے۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۱۰حاشیہ)