تذکرہ — Page 609
سَبِیْلِ اللّٰہِ رَدَّ عَلَیْھِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ۔شَکَرَ اللّٰہُ سَعْیَہٗ۔اَمْ راہ کے مانع ہوئے ان کا ایک فارسی الاصل آدمی نے رَدّ کیا۔خدا اس کی کوشش کا شکر گذار ہے۔کیا یَقُوْلُوْنَ نَـحْنُ جَـمِیْعٌ مُّنْتَصِـرٌ۔سَیُــھْزَمُ الْـجَمْعُ وَ یُـوَلُّوْنَ الدُّ۔بُـرَ۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایک زبردست جماعت تباہ کرنے والے ہیں۔یہ سب لوگ بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے۔اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔وَ اِنَّ عَلَیْکَ رَحْـمَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنِ۔تُو ہمارے نزدیک آج صاحب ِ مرتبہ امین ہے اور تیرے پر میری رحمت دُنیا اور دین میں ہے۔وَ اِنَّکَ مِنَ الْمَنْصُوْرِیْنَ۔یَحْمَدُکَ اللّٰہُ وَ یَـمْشِیْ اِلَیْکَ۔سُـبْحَانَ الَّذِیْ اور تُو اُن لوگوں میں سے ہے جن کے شامل نصرتِ الٰہی ہوتی ہے۔خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چل رہا ہے۔وہ پاک ذات وہی خدا ہے اَسْـرٰی بَعَبْدِہٖ لَیْلًا۔خَلَقَ اٰدَمَ فَاَکْرَمَہٗ۔جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ ۱؎ جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرادیا۔اُس نے اِس آدم کو پَیدا کیا اور پھر اُس کو عزت دی۔یہ رسولِ خدا ہے تمام نبیوں کے پیرایہ میں یعنی ہر ایک الْاَ۔نْبِیَآءِ۔بُشْـرٰی لَکَ یَآ اَحْـمَدِیْ اَنْتَ مُرَادِیْ وَ مَعِیْ۔سِـرُّکَ نبی کی ایک خاص صفت اِس میں موجود ہے۔تجھے بشارت ہو اے میرے احمد ! تُو میری مُراد اور میرے ساتھ ہے۔تیرا بھید سِـرِّیْ۔اِنِّیْ نَاصِـرُکَ۔اِنِّیْ حَافِظُکَ۔اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔میرا بھید ہے۔مَیں تیری مدد کروں گا۔مَیں تیرا نگہبان رہوں گا۔مَیں لوگوں کے لئے تجھے امام بناؤں گا تُو ان کا رہبر ہوگا اور وہ تیرے اَ کَانَ لِلنَّاسِ عَـجَبًا۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَـجِیْبٌ۔لَایُسْئَلُ عَـمَّا یَفْعَلُ پَیرو ہوں گے۔کیا ان لوگوں کو تعجب آیا؟ کہہ خدا ذو العجائب ہے۔وہ اپنے کاموں سے پُوچھا نہیں جاتا وَ ھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔وَ تِلْکَ الْاَیَّـامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔وَ قَالُوْا اِنْ ھٰذَا اور لوگ پُوچھے جاتے ہیں اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔اور کہیں گے کہ یہ تو صرف ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس وحیِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اَخِیرتک جس قدر انبیاء علیہم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دُنیا میں آئے ہیں خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی اُن سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اِس عاجز کو کچھ حصّہ دیا گیا ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اِس عاجز کو حصّہ نہیں دیا گیا۔ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔اسی پر خدا نے مجھے اطلاع دی۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ ۱۱۶)