تذکرہ — Page 607
یَنْقَطِعُ اٰبَآءُکَ وَ یُـبْدَءُ مِنْکَ۔۱؎ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْرُکَـکَ حَتّٰی تیرے باپ دادوں کا ذکر منقطع ہوجائے گا اور تیرے بعد سلسلہ خاندان کا تجھ سے شروع ہوگا۔اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یاد رہے کہ ظاہری بزرگی اور وجاہت کے لحاظ سے اِس خاکسار کا خاندان بہت شہرت رکھتا تھا بلکہ اِس زمانہ تک بھی اس خاندان کی دُنیوی شوکت زوال کے قریب قریب تھی۔میرے دادا صاحب کے اِس نواح میں بیاسی گائوں اپنی ملکیت کے تھے اور پہلے اِس سے وہ والیانِ ملک کے رنگ میں بسر کرتے تھے اور کسی سلطنت کے ماتحت نہ تھے اور پھر رفتہ رفتہ حِکمت اور مشیّتِ ایزدی سے سکھوں کے زمانہ میں چند لڑائیوں کے بعد سب کچھ کھو بیٹھے اور صرف چھ۶ گاؤں ان کے قبضہ میں رہے اور پھر دو گاؤں اَور ہاتھ سے جاتے رہے اور صرف چار گاؤں رہ گئے اور اِس طرح پر دُنیوی شوکت جو کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتی زوال پذیر ہوگئی۔بہر حال یہ خاندان اِس نواح میں بہت شہرت رکھتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ یہ عزت صرف دنیوی حیثیت تک محدود رہے کیونکہ دُنیا کی عزتوں کا بجز بے جا مشیخت اور تکبر اور غرور کے اور کوئی ماحصل نہیں اِس لئے اب خدا تعالیٰ اپنی پاک وحی میں وعدہ دیتا ہے اور مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اَب یہ خاندان اپنا رنگ بدل لے گا اور اِس خاندان کا سلسلہ تم سے شروع ہوگا اور پہلا ذکر منقطع ہوجائے گا اور اِس وحیِ الٰہی میں کثرتِ نسل کی طرف بھی اشارہ ہے یعنی نسل بہت ہوجائے گی اور جیسا کہ بظاہر سمجھا گیا ہے یہ خاندان مغلیہ خاندان کے نام سے شہرت رکھتا ہے لیکن خدائے عالم الغیب نے جو دانائے حقیقت ِ حال ہے بار بار اپنی وحیِ مقدّس میں ظاہر فرمایا ہے جو یہ فارسی خاندان ہے اور مجھ کو ابناءِ فارس کرکے پکارا ہے جیسا کہ وہ میری نسبت فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ کَـفَرُوْا وَ صَدُّ وْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ رَدَّ عَلَیْھِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ شَکَرَاللّٰہُ سَعْیَہٗ۔یعنی جو لوگ کافر ہوکر خدا تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں ایک فارسی الاصل نے ان کا رَدّ لکھا ہے خدا اس کی اس کوشش کا شکر گذار ہے۔پھر وہ ایک اَور وحی میں میری نسبت فرماتا ہے لَوْکَانَ الْاِیْـمَانُ مُعَلَّقًا بِـالثُّـرَیَّـا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ۔یعنی اگر ایمان ثریّا کے ساتھ معلّق ہوتا تو ایک فارسی الاصل انسان وہاں بھی اُس کو پالیتا۔پھر اپنی ایک اَور وحی میں مجھ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے خُذُ وا التَّوْحِیْدَ التَّوْحِیْدَ یَـا اَبْنَآءَ الْفَارِسِ۔یعنی توحید کو پکڑو۔توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو۔اِن تمام کلماتِ الٰہیہ سے ثابت ہے کہ اِس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہے نہ مُغلیہ۔نہ معلوم کِس غلطی سے مغلیہ خاندان کے ساتھ مشہور ہوگیا اور جیسا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے میرے خاندان کا شجرہ نَسب اِس طرح پر ہے کہ میرے والد کا نام میرزا غلام مرتضیٰ تھا اور اُن کے والد کا نام میرزا عطا محمد۔میرزا عطا محمد کے والد کا نام میرزا گل محمد۔میرزا گل محمد کے والد میرزا فیض محمد اور میرزا فیض محمد کے والد میرزا محمد قائم۔میرزا محمد قائم کے والد میرزا محمد اسلم۔میرزا محمد اسلم کے والد میرزا دلاور۔میرزا دلاور کے والد میرزا الہ دین۔میرزا الہ دین کے والد میرزا جعفر بیگ۔میرزا جعفر بیگ کے والد