تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 585 of 1089

تذکرہ — Page 585

۶؍ مئی۱۹۰۶ء روز یک شنبہ ’’ وَ لَا تُکَلِّمْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِنَّـھُمْ مُّغْرَقُـوْنَ۔وَعْدٌ عَلَیْنَا حَقٌّ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۷۶) بقیہ حاشیہ۔مخالفین کے منہ بند۲؎ ہو جائیں گے اور حق کے طالبوں کے دل پوری تسلّی پائیں گے اور یہ بیان اس بنا پر ہے کہ جب ثلج کے معنے تسلّی پانا اور شکوک اور شبہات سے رہائی ہوجانا سمجھے جائیں لیکن اگر برف اور بارش کے معنے ہوئے تو خدا تعالیٰ کوئی اَور سماوی آفت نازل کرے گا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ ۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں اس پیشگوئی کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’ان لوگوں کے بارہ میں میرے ساتھ بات نہ کر جو ظالم ہیں۔یعنی دنیا کو دین پر مقدّم رکھتے ہیں اور دنیا کے ہموم و غموم میں لگ کر دین کے پہلو سے لاپروا ہیں۔مَیں ان کو ضرور غرق کروں گا اور ناکامی میں مریں گے۔یہ خدا کا سچا وعدہ ہے جو نہیں ٹلے گا۔میرے خیال میں یہ الہام ہماری جماعت کے بعض افراد کی نسبت ہے جو دُنیا کے ہموم و غموم میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور دین کی فکر اور غم سے لاپروا ہیں۔گویا خدا تعالیٰ مجھے ہدایت فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے دعا مت کر۔ان کی شفاعت مت کر کیونکہ جیسا کہ ان کا دین مَرگیا ان کی دُنیا بھی مرے گی۔ظاہر ہے کہ دعا اور شفاعت دوستوں کے لئے ہوتی ہے نہ دشمنوں کے لئے۔پس اسی قرینہ سے مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ الہام خاص دوستوں کے لئے ہے اور ایک بڑے عذاب سے ان کو ڈرایا گیا ہے اور ممکن ہے کہ وہ عذاب دوسروں کے لئے بھی ہو مگر ایسے لوگوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ بظاہر اس جماعت میں داخل ہیں مگر ان کی حالت دُنیا پرستی کی ہمارے اصول کے مخالف ہے۔‘‘ ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ دیکھو ثلج کے آنے کے دن والی پیشگوئی کس طرح پوری ہوگئی اور مَیں نے اس کے دو پہلو لئے تھے۔ایک تو یہ کہ خدا کچھ ایسے نشان دکھائے جن کی وجہ سے لوگوں پر حجّت قائم ہوجائے اور دل تسکین پکڑ جائے اور دوسرا یہ کہ سخت بارش اور سردی اور ژالہ باری ہو جو ایک زمانہ دراز سے کبھی نہ ہوئی ہو تو خدا تعالیٰ نے یہ دونوں پہلو پورے کردیئے۔یہ نشان اِس طرح متواتر ظہور میں آئے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ یورپ اور امریکہ پر بھی حجّت قائم ہوگئی۔یعنی ڈوئی کی موت سے …بس یہ ایک نشان تھا جس نے تمام یورپ اور امریکہ پر اور سعد اللہ کی موت نے ہندوستان پر حجّت قائم کردی ہے…پس اِن دو نشانوں اور دوسرے کئی نشانوں نے مل کر دنیا پر ثلج کی پیشگوئی کا پورا ہونا ثابت کردیا اور پھر یہی نہیں اصل الفاظ میں بھی یہ پیشگوئی کھلے طور سے پوری ہوگئی۔یعنی اس بہار کے موسم میں جیسا کہ لکھا گیا تھا کہ بہار کے موسم میں ایسا ہوگا۔ایسی سخت سردی اور بارش اور ژالہ باری ہوئی ہے کہ دنیا چیخ اُٹھی ہے۔‘‘ (بدر مورخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۶)