تذکرہ — Page 573
اِس خواب میں محمود کا دیکھنا اور پھر میر ناصر نواب کا دیکھنا نیک انجام پر دلالت کرتا ہے کیونکہ محمود کا لفظ خاتمہ محمود کی طرف اشارہ ہے۔یعنی اس اِبتلا کا خاتمہ اچھا ہوگا اور ناصر نواب کا دیکھنا اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ ناصر ہوگا اور اپنی نصرت سے ابتلاء سے رہائی دے گا اور آخر یہ ابتلاء نشان کی صورت میں ہوجائے گا۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۱۲ مورخہ ۲۲ ؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۲۰؍ مارچ۱۹۰۶ء اُوْحِیَ اِلَـیَّ فِیْ ۲۰؍مارچ سنہ ۱۹۰۶ء ’’ اَلْمُرَادُ حَاصِلٌ۔‘‘۱؎ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۷۰۲۔کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۹) ۲۴؍ مارچ۱۹۰۶ء ’’ ۱۔رفیقوں کو کہہ دو کہ اب عجائب در عجائب باتوں کے دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔۲؎ ۲۔قَالَ رَبُّکَ اِنَّہٗ نَـازِلٌ مِّنَ السَّمَآءِ مَا یُـرْضِیْکَ۔‘‘ ۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۱) ۲۶؍ مارچ۱۹۰۶ء ’’دربارہ زلزلہ۔الہام۔رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھٰذَا۔رَبِّ سَلِّطْنِیْ عَلَی النَّارِ۔‘‘ (کاپی الہامات۴؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۱) ۱ (ترجمہ از ناشر) ۲۰؍ مارچ ۱۹۰۶ء کو مجھے وحی کی گئی کہ مرا د بَر آنے والی ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں ان الہامات کی تاریخ ۲۴؍ مارچ ۱۹۰۶ء درج ہے نیز اردو الہام کے الفاظ یوں ہیں۔’’رفیقوں کو کہہ دیں کہ عجائب در عجائب کام دکھلانے کا وقت آگیا ہے۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔تیرے رَبّ نے کہا کہ آسمان سے وہ چیز اُترنے والی ہے جو تجھے خوش کرے گی۔۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۹؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ اور الحکم مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں یہ الہامات مع تفصیل ۲۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء کے تحت درج ہیں اور اندراج یوں کیا گیا ہے۔’’فرمایا۔آج زلزلہ کے وقت کے لئے توجہ کی گئی تھی کہ کب آوے گا۔اِسی توجہ کی حالت میں زلزلہ کی صورت آنکھوں کے آگے آگئی اور پھر الہام ہوا۔رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھٰذَا۔یعنی اَے میرے خدا ! یہ زلزلہ جو نظر کے سامنے ہے اس کا وقت کچھ پیچھے ڈال دے۔قاعدہ نحو کے مطابق ھٰذَا کی جگہ ھٰذِ ہٖ چاہیےتھا مگر اِس جگہ ھٰذَا سے مراد ھٰذَا الْعَذَاب ہے کیونکہ اصل غرض تو