تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 570 of 1089

تذکرہ — Page 570

۱۳؍ مارچ ۱۹۰۶ء ’’ خواب میں دیکھا کہ میر ناصر نواب صاحب اپنے ہاتھ پر ایک درخت رکھ کر لائے ہیں جو پھل دار ہے اور جب مجھ کو دیا تو وہ ایک بڑا درخت ہوگیا جو بیدا نہ تُوت کے درخت کے مشابہ تھا اور نہایت سبز تھا اور پھلوں اور پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور پھل اس کے نہایت شیریں تھے اور عجیب تر یہ کہ پھول بھی شیریں تھے مگر معمولی درختوں میں سے نہیں تھا۔ایک ایسا درخت تھا کہ کبھی دُنیا میں دیکھا نہیں گیا۔مَیں اُس درخت کے پھل اور پھول کھارہا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔میری دانست میں میر ناصر سے مراد خدائے ناصر ہے کہ وہ ایک ایسے عجیب طور سے مدد کرے گا جو فوق العادت ہوگی۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۶ ؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۱۹۰۶ء ’’ تھوڑی غنودگی کی حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک کاغذ پر لکھا ہوا مجھے یہ دکھلایا کہ تِلْکَ اٰیَـاتُ الْکِتَابِ الْمُبِیْنِ یعنی قرآن شریف کی سچائی پر یہ۱؎ نشان ہوں گے۔‘‘ (تجلیاتِ الٰہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۹۶حاشیہ) ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۶ ء (الف) ’’ اَنْتَ سَلْمَانُ وَ مِنِّیْ یَـا ذَا الْبَرَکَاتِ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۹) (ب) ’’چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار۔‘‘ (تجلّیاتِ الٰہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۹۵۔کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۹) (ترجمہ) مَیں اس زلزلہ کے نشان کی پنج مرتبہ تم کو چمک دکھلائوں گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۶) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی موجودہ زلزلے۔۲ (ترجمہ) تو سلمان ہے اور مجھ سے اے صاحب ِ برکات۔(بدر مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں اس الہام کے بعد تحریر ہے کہ ’’فرمایا۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے جو کہ آپ نے اصحابؓ میں سے ایک فارسی شخص سلمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا۔‘‘ ریویو آف ریلیجنز ماہ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۶۲ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’رؤیا میں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اَنْتَ سَلْمَانُ وَ مِنِّیْ یَـا ذَا الْبَرَکَاتِ۔‘‘