تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 567 of 1089

تذکرہ — Page 567

(ب) ’’ ۱۔یُرِیْکُمُ۱؎ اللّٰہُ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔۲۔اُرِیْکَ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔۳۔وَ یَسْئَلُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ۔وَلَا یُرَدُّ عَنْ قَوْمٍ یُّعْرِضُوْنَ۔۴۔نَصْـرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔۵۔وَیَسْئَلُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ۔۶۔نَصْـرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔۷۔وَلَا یُرَدُّ عَنْ قَوْمٍ یُّعْرِضُوْنَ۔۸۔اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یَّـبْعَثَکَ مُقَامًا مَّـحْمُوْدًا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۰۶، ۳۰۵) ۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء ’’ ۱۔زلزلہ آنے کو ہے۔ہمارے لئے عید کا دن۔۲۔رَبِّ لَا تُرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔رَبِّ لَا تُرِنِیْ مَوْتَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ۔‘‘۲؎ ۳۔جس سے تو بہت پیار کرتا ہے مَیں اس سے بہت پیار کروں گا اور جس سے تو ناراض ہے مَیں اس سے ناراض ہوں گا۔یعنی تیرا کِسی سے محبّت کرنا اس کو ایسی آفت سے بچائے گا۔تیرا کسی سے ناراض ہونا اس کو ایسی آفت میں مبتلا کرے گا۔۴۔اَیْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ۔۳؎ یعنی جس سے تجھے محبّت ہوگی خدا بھی اس سے محبّت کرے گا اور اُسے بچائے گا۔۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اللہ تمہیں وہ زلزلہ دکھائے گا جو قیامت کا نمونہ ہوگا۔۲۔مَیں تجھے وہ زلزلہ دکھائوں گا جو اپنی شدت کی وجہ سے نمونہ قیامت ہوگا۔۳۔اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا وہ بات سچ ہے۔کہہ ہاں میرے رَبّ کی قَسم یہ یقیناً سچ ہے اور اِعراض کرنے والی قوم سے وہ عذاب نہیں ٹلے گا۔۴۔خدا سے مدد اور کھلی فتح۔۵۔اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا وہ بات سچ ہے۔کہہ ہاں میرے رَبّ کی قسم یہ یقیناً سچ ہے اور اِعراض کرنے والی قوم سے وہ عذاب نہیں ٹلے گا۔۶۔خدا سے مدد اور کھلی فتح۔۷۔اور اِعراض کرنے والی قوم سے وہ عذاب نہیں ٹلے گا۔۸۔اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ تجھے مقامِ محمود پر مبعوث کرے۔۲ (ترجمہ) اے میرے ربّ مجھے قیامت کا زلزلہ نہ دکھلا۔اے میرے ربّ ان میں سے کسی کی موت مجھ کو نہ دکھلا۔(بدر مورخہ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲) ۳ (ترجمہ) جس طرف تمہارا منہ ہوگا اسی طرف خدا بھی منہ کرے گا۔(بدر مورخہ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲)