تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 566 of 1089

تذکرہ — Page 566

سچے ہیں۔مگر اِس جگہ یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ حفاظت سے مراد حفاظت ِ جسم ہے یا حفاظت ِ روح۔‘‘ ( بدر جلد۲ نمبر۴۴مورخہ یکم؍ نومبر۱۹۰۶ء صفحہ۴) ۱۹۰۶ء؎۱ ’’پھر خدا نے مجھے خبر دی کہ موسمِ بہار میں ایک اَور غیر معمولی زلزلہ آئے گا اور ۲۵ ؍ فروری ۱۹۰۶ء کے بعد آئے گا چنانچہ ۲۷ ؍ فروری ۱۹۰۶ء کا دن گزرنے کے بعد رات کو بوقت ڈیڑھ بجے وہ زلزلہ آیا جس سے بہت سے گھر مسمار ہوئے اور بہت سی جانیں ضائع ہوئیں۔‘‘ ( اشتہار ۲۹؍ اپریل ۱۹۰۶ء مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۸۶، ۳۸۷ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) یکم مارچ ۱۹۰۶ء ’’ خدا نے یہ وحی میرے پر نازل کی جس کے یہ الفاظ ہیں۔زلزلہ آنے کو۲؎ ہے۔اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی آیا نہیں بلکہ آنے کو ہے اور یہ زلزلہ اُس کا پیش خیمہ ہے جو پیشگوئی کے مطابق پورا ہوا۔‘‘ ( اشتہارزلزلہ کی پیشگوئی ۲؍ مارچ ۱۹۰۶ء مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۷۸مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۷ ؍مارچ ۱۹۰۶ء ’’ ھَا اِنِّیْ اٰثَـرْتُکَ۔‘‘۳؎ ( بدر جلد۲ نمبر۱۰مورخہ۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم جلد۱۰ نمبر۸مورخہ۱۰؍ مارچ۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۸؍مارچ ۱۹۰۶ء (الف) ’’زلزلہ کے متعلق دعا کی گئی تھی کہ کب آوے گا۔الہام ہوا۔عَلٰی اُصُوْلِہِ الْقَدِ یْمِ۔پھر الہام ہوا۔رَبِّ لَا تُرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۸) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چونکہ اِس الہام کی تاریخ نزول معلوم نہیں ہوسکی اِس لئے ۲۵ ؍ فروری ۱۹۰۶ء کے ذِکر کی مناسبت سے اسے یہاں رکھا گیا۔۲ اس الہام کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’اِس کے معنے یہ ہیں کہ اِسی زلزلہ کو جوہوا، اصل زلزلہ نہ سمجھو بلکہ سخت زلزلہ آنے کو ہے۔‘‘ ( بدر مورخہ۲؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم مورخہ۱۰؍ مارچ۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۳ (ترجمہ) خبردار ہو! مَیں نے تجھے چن لیا۔(بدر مورخہ ۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲) ۴ (ترجمہ از مرتّب) اس کے قدیم دستور کے مطابق۔اے میرے ربّ مجھے قیامت کا زلزلہ نہ دکھلا۔